Jhoti Tareef - Fake prise - جھوٹی تعریف
جھوٹی تعریف
● کسی شیء کی تعریف میں انتہائی مبالغہ آرائی سے کام لینا، یا خوشامد اور چاپلوسی میں کسی شخص کو اصل مقام سے اوپر اٹھا دینا، یا ایسی خوبیاں بیان کرنا،جو اُس میں نہ پائی جاتی ہوں غیر مناسب عمل ہے، ناجائز ہے۔
● جھوٹی تعریف اپنی ہو یا غیر کی ، کسی سامان کی ہو یا کسی مقام کی، یہ دراصل دھوکہ دہی ، کذب بیانی، کبیرہ گناہ ، سماج کے لئے تباہ کن زہر اور بڑھتا ہوا کینسر ہے۔ جھوٹی تعریف ممدوح کے پاؤں میں زنجیر بن کر ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا سبب ہے، عقل و ذہن کی پرواز کے لئے مانع ہے۔ نبیﷺ نے ایک شخص کو کسی کی تعریف میں مبالغہ آرائی کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: ’’ اَھْلَکْتُمْ اَوْ قَطَعْتُمْ ظَہْرَ الرَّجُلِ‘‘(متفق علیہ) ترجمہ:’’تم نے اُسے ہلاک کردیا"، یا فرمایا : "تم نے اس شخص کی کمر توڑدی‘‘ ۔
ایک دوسری حدیث میں نبیﷺ نے فرمایا: ’’اِیَّاکُمْ وَالتَّمَادُحَ فَاِنَّہُ الذَّبْحُ‘‘ (سنن ابن ماجہ و حسنہ الالبانی) ترجمہ:’’ایک دوسرے کی خوشامد اور بےجا تعریف سے بچو، کیونکہ یہ تو ذبح کرنے کے مترادف ہے‘‘۔
● ’’جھوٹی تعریف‘‘ ممدوح کےدلوں میں کبرو غرور کا بیج بوتی ہے ، اسے ریا اورخود پسندی کا شکار بنا دیتی ہے، یہ عصرحاضر کا ایک بڑا المیہ و فتنہ ہے، کچھ لوگوں کو جھوٹی تعریف میں مہارت تامہ حاصل ہے، اُنہیں جھوٹی تعریف کرکے سماج کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کا فن آتا ہے، ذرہ کو آفتاب بنانے کا ہنر آتا ہے، اہل کو نااہل اور نااہل کو اہل بنا کر پیش کرنے کا سلیقہ آتا ہے، جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ عام طور پر جھوٹی تعریف وہ لوگ کرتے ہیں جو ممدوح کی قربت چاہتے ہیں یا اس کے ذریعہ کسی نفع و منصب کاحصول چاہتے ہیں یا عمومی طور پر شہرت کا طلبگار ہوتے ہیں، بسا اوقات جھوٹی تعریف سے یہ مقاصد حاصل ہوجاتے ہیں ، مگر اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔
● اہل فضل بھی اس فتنہ سے محفوظ نہ رہ پائے، دینی و رفاہی مراکز اور ادارے بھی تھوڑے کام پر زیادہ تعریفیں سننے کی بلا میں مبتلا نظر آئے، ہر ایک کو جھوٹی تعریفیں سننے کی لت لگی ہے ، تصویر کشی اور سوشل میڈیائی دور میں یہ مرض کچھ زیادہ ہی پھیل رہا ہے، بغیر کام کئے تعریفوں کا پُل تعمیر کرانے کی خواہش عروج پر ہے۔{وَیُحِبُّوْنَ أَنْ یُحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا}(آل عمران ۱۸۸) ترجمہ :’’ اور وہ پسند کرتے ہیں کہ ایسے کاموں پر ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کیا ہے ‘‘۔
● ہاں کسی کی عظمت و بڑکپن کا معترف ہونا اچھی صفت ہے، اچھے جذبات واحساسات کا اظہار کرنا جائز اور وسعت قلبی کی علامت ہے، سچی تعریف بلاشبہ افادیت سے خالی نہیں، مگر دین اسلام نے سچی تعریف کرنے کے بھی چند اصول و ضوابط بتائے ہیں، رسول ﷺ نے کسی کے سامنے بہت زیادہ تعریف کرنے والوں کے چہرے پر دھول ڈالنے کا حکم دیا۔"إذا رأَيْتُم المدَّاحينَ فاحثُوا في وجوهِهم التُّرابَ " (صحیح ابن حبان) ۔ ترجمہ:"جب تم بہت زیادہ تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہرہ پر مٹی ڈال دو"۔ ہاں اگر کسی کی سچی تعریف کرنی ہو اور وہ اس کے بارے میں ان خوبیوں سے واقف ہے تو کہے:"إن كان أحدكم مادحًا لا محالة فليقل: أحسب كذا وكذا، إن كان يرى أنه كذلك، والله حسيبه، ولا أزكي على الله أحدًا" [البخاري: 2662]
ترجمہ: " اگر تم میں سے کسی کو لامحالہ کسی کی تعریف ہی کرنی ہو، اگر وہ اسے ویسا سمجھتا ہو تو یہ کہے! میں اسے ایسا اور ایسا سمجھتا ہوں ، حقیقت کا علم اللہ کے پاس ہے اور اللہ کے مقابلہ میں کسی کو پاکباز نہیں سمجھتا۔
● اسی طرح سے اگر شر و فساد کا خاتمہ اور اصلاحِ احوال مطلوب ہو ، یا دشمن سے جنگ کا ماحول ہو، یا میاں بیوی کے درمیان آپسی صلح وصفائی کی گفتگو ہو تو وہاں گنجائش ملتی ہے اور وہ شخص اللہ کے یہاں جھوٹا نہیں ہوگا، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔اللہ ہمیں سچائی کا معاملہ کرنے کی توفیق دے اور کذب بیانی سے محفوظ رکھے ۔ آمین
Comments
Post a Comment