Introduction about hazrat Abu bakar Siddique Razi Allah anho
”خلیفۃُالمسلین“ تسلیم کرلیا۔ (بخاری،ج 4، ص346، حدیث: 6830مفہوماً)
آپ اپنے دورِ خلافت میں اسلام دشمن قوتوں کے خلاف ڈٹے رہے ،نبوت کے جھوٹے دعویداروں سے برسرِپیکار (جنگ پر آمادہ) ہوئے اور انہیں کیفرِ کردار (کئے کی سزا) کو پہنچایا، اپنی حکمتِ عملی سے نا پختہ ذہن رکھنے والے مرتد قبائل کی سر کوبی کی ،زکوٰۃ کے منکرین کے خلاف جہادکا عَلَم (جھنڈا) بلند فرمایا اورانہیں شکست سے دوچار کیا۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِ خلافت میں عراق و شام کے کئی شہر فتح ہوئے جن میں اُردن، اَجنادِین، مقام ِحِیرَہ اور دَوۡمَۃُ الۡجَنۡدَل کی فتوحات قابلِ ذکر ہیں ۔
حکایت:آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وقف کی چیزوں کے بارے میں بہت احتیاط فرماتے تھے، آپ نے اپنے استعمال کے لئے اونٹنی، کھانے کے لئے ایک بڑا پیالہ اور اوڑھنے کے لئے چادر لی ہوئی تھی، بوقتِ وصال آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان تینوں چیزوں کو حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس بھیجنے کی وصیت کی،چنانچہ حسبِ وصیت یہ تینوں چیزیں حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس پہنچادی گئیں۔ (تاریخ الخلفاء،ص 60، ملخصاً)
وصال:دربارِ رسالت کے اس پیارے چمکتے دمکتے ستارے نے 22 جُمادَی الاُخریٰ 13 ہجری بمطابق 23 اگست 634 عیسوی پیر اور منگل کی درمیانی رات مغرب و عشا کے درمیان دارُ الفناء سے دارُ البقاء کی طرف کوچ فرمایا۔ بوقتِ وصال آپ کی عمر 63 سال تھی۔ (فیضانِ صدیق اکبر، ص468ملخصاً) جبکہ زبانِ مبارک کے آخری کلمات یہ تھے: اے پروَردگار! مجھے اسلام پر موت عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملادے۔ (الریاض النضرۃ،ج1، ص258)آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نماز ِجنازہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے پڑھائی۔
(طبقاتِ ابن سعد ،ج3، ص154)
وصیّت کے مطابق آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جَسَدِ مبارک کو رَوضَۂ محبوب کے سامنے لایا گیا اور عرض کی گئی :یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ابوبکر آپ سے اجازت کے طلب گار ہیں ، روضَۂ مُبارَکہ کا دروازہ کُھل گیا اور اندر سے آواز آئی: ”اَدۡخِلُوا الۡحَبِیۡبَ اِلٰی حَبِیۡبِہٖ“ یعنی محبوب کو اس کے محبوب سے ملادو۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پہلوئے مبارک میں سپردِ رحمت کردیا گیا۔ (الخصائص الکبریٰ،ج 2، ص492 )
Comments
Post a Comment