حضرت شفیق بلخیؒ اور حضرت ابراہیم ادہمؒ دونوں ہم زمانہ تھ

 *ایک واقعہ / دو سبـــــــق...!!!*


حضرت شفیق بلخیؒ اور حضرت ابراہیم ادہمؒ دونوں ہم زمانہ تھے...کہا جاتاہے کہ ایک بار شفیق بلخیؒ اپنے دوست ابراہیم ادہمؒ کے پاس آئے اور کہا کہ میں ایک تجارتی سفر پر جارہا ہوں سوچا کہ جانے سے پہلے آپ سے ملاقات کرلوں... کیونکہ اندازہ ہے کہ سفر میں کئی مہینے لگ جائیں گے...

اس ملاقات کے چند دن بعد حضرت ابراہیم ادہمؒ نے دیکھا کہ شفیق بلخیؒ دوبارہ مسجد میں موجود ہیں...پوچھا آپ سفر پر نہیں گئے...کہاگیا تھا لیکن راستہ میں ایک واقعہ دیکھ کر واپس ہوا، ایک غیر آباد جگہ پہنچا وہیں میں نے پڑاؤ ڈالا...وہاں میں نے ایک چڑیا دیکھی جو اڑنے کی طاقت سے محروم تھی مجھے اس کو دیکھ کر ترس آیا میں نے سوچا کہ اس ویران جگہ پر یہ چڑیا اپنی خوراک کیسے پاتی ہوگی...میں اس سوچ میں تھا کہ اتنے میں ایک اور چڑیا آئی اس کے سامنے گرگئی، معذور چڑیا نے اس کو اٹھا کر کھا لیا...اس کے بعد آنے والی طاقت ور چڑیا اڑگئی...یہ منظر دیکھ کر میں نے کہا   سبحان اللہ خدا جب ایک چڑیا کا رزق اس طرح اس کے پاس پہنچا سکتاہے...تو مجھ کو رزق کےلیے شہر در شہر پھرنے کی کیا ضرورت ہے...چنانچہ میں نے آگے جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور وہیں سے واپس چلا آیا...یہ سن کر حضرت ابراہیم ادہمؒ نے کہا کہ شفیق تم نے اپاہج پرندے کی طرح بننا کیوں پسند کیا تم نے یہ کیوں نہیں چاہا کہ تمہاری مثال اس پرندے کی سی ہو جو اپنی قوت بازو سے خود بھی کھاتا ہے...اور اپنے دوسرے ہم جنسوں کو بھی کھلاتا ہے...شفیق بلخیؒ نے یہ سنا تو ابراہیم ادہمؒ کا ہاتھ چوم لیا...اور کہا کہ،ابو اسحاق، تم نے میری آنکھ کا پردہ ہٹادیا وہی بات صحیح ہے...جو تم نے کہی

Comments

Popular posts from this blog

What remain after death جب انسان مر جائے تو کیا باقی رہتا ہے ?*

Khulasa e Quran - para number 30 - 🕋 پارہ نمبر 30 خلاصہ قرآن

Khulasa e Quran - para number 29 - 🕋 پارہ نمبر 29 خلاصہ قرآن