اللہ کے ولی کا ادب باعث مغفرت Allah k wali ka adab bais e maghfirat hai

 *اللہ کے ولی کا ادب باعث مغفرت*


┈┉┅━❀🍃🌸🍃❀━┅┉┈


بزرگوں کے واقعات میں لکھا ہے کہ امام احمد بن حنبل رح کے زمانہ میں ایک شخص کا انتقال ہوا۔ کسی کے خواب میں وہ شخص آیا تو اس نے پوچھا کہ بھائی ! تیرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا کیا معاملہ ہوا ؟ تو اس نے کہا کہ اللہ کے فضل سے میری مغفرت ہوگئ۔ پوچھا کہ کس بنیاد پر مغفرت ہوئی ؟ کہا کہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ مجھے وضو کرنے کی ضرورت پڑی تو میں وضو کرنے کیلئے ایک نہر کے کنارے پہنچا ، میں نے دیکھا کہ نیچے کی طرف امام احمد بن حنبل بیٹھ کر وضو کررہے ہیں تو میں نے یہ خیال کیا کہ وہ وہاں وضو کررہے ہیں، مجھے بھی وضو کرنا ہے، اگر میں یہاں بیٹھ کر وضو کرونگا تو میرا غسالہ( اعضاء کا دھویا ہوا پانی) ان کی طرف جائیگا اور ان کے وضو کے پانی میں ملے گا، یہ ادب کے خلاف ہے؛ اس لئے مجھے وہ جہاں بیٹھے ہیں اس کے نیچے بیٹھ کر وضو کرنا چاہیے۔ یہ سوچ کر میں وہاں سے اٹھا اور امام احمد بن حنبل جہاں بیٹھے تھے، اس کے نیچے جاکر میں نے وضو کیا تاکہ ان کا غسالہ میری طرف آئیگا تو مجھے بھی کچھ تبرک حاصل ہوگا۔ کہتے ہیں کہ اس ادب پر میری بخشش ہوگئی۔۔

       اس واقعہ میں غور کیجئے کہ اللہ والے کا ایک معمولی ادب کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مغفرت جیسی عظیم دولت عطا فرمادی، جو شخص ہمیشہ ان کی اتباع کرے تو اسے کیا کچھ اللہ تعالیٰ نہیں دیں گے۔ اسی لئے بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : " ھم قوم لا یشقی جلیسھم" کہ یہ اولیاء اللہ کی قوم وہ قوم ہے کہ ان کے پاس بیٹھنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا۔

( بخاری: 6408)

Comments

Popular posts from this blog

What remain after death جب انسان مر جائے تو کیا باقی رہتا ہے ?*

Khulasa e Quran - para number 30 - 🕋 پارہ نمبر 30 خلاصہ قرآن

Khulasa e Quran - para number 29 - 🕋 پارہ نمبر 29 خلاصہ قرآن