تصوف میں متانت کیا ہوتی ہے ؟ سید ناعبد القادر جیلانی جامعہ بغداد میں درس دے رہے تھے۔ چھت سے سانپ ان کی گردن پہ آ کے گرا- سارے لوگ وہاں سے اٹھ کر بھاگے۔ شیخ اسی طرح باتیں کرتے رہے۔ سانپ گردن سے اترا، پاؤں میں آیا۔ پاؤں سے نیچے چلا گیا۔ جب وہ نیچے اتر گیا اور لوگوں نے دیکھا کہ شیخ پر تو کوئی اثر نہیں ہوا تو سانپ نے پلٹا کھایا اور آواز دی اے عبد القادر ! میں نے مقام تمکنت میں بڑے اولیا کو آزمایا، کچھ ظاہرا مطمئن تھے، لیکن تیرے سوا کوئی ایسا نہ تھا، جس کا باطن متغیر نہ ہوا۔ شیخ نے جواب میں کہا، اے بد بخت ، تو قضاو قدر کے ہاتھوں میں ایک کیڑا ہی تو ہے ، تجھ سے کیا ڈرنا۔
تصوف میں متانت کیا ہوتی ہے ؟ سید ناعبد القادر جیلانی جامعہ بغداد میں درس دے رہے تھے۔ چھت سے سانپ ان کی گردن پہ آ کے گرا- سارے لوگ وہاں سے اٹھ کر بھاگے۔ شیخ اسی طرح باتیں کرتے رہے۔ سانپ گردن سے اترا، پاؤں میں آیا۔ پاؤں سے نیچے چلا گیا۔ جب وہ نیچے اتر گیا اور لوگوں نے دیکھا کہ شیخ پر تو کوئی اثر نہیں ہوا تو سانپ نے پلٹا کھایا اور آواز دی اے عبد القادر ! میں نے مقام تمکنت میں بڑے اولیا کو آزمایا، کچھ ظاہرا مطمئن تھے، لیکن تیرے سوا کوئی ایسا نہ تھا، جس کا باطن متغیر نہ ہوا۔ شیخ نے جواب میں کہا، اے بد بخت ، تو قضاو قدر کے ہاتھوں میں ایک کیڑا ہی تو ہے ، تجھ سے کیا ڈرنا۔
Comments
Post a Comment