غصہ کرنے کے نقصانات Ghusa karny k nuqsanat

 🔶 غصہ کرنے کے نقصانات 🔶


حضرت علی رضی الله تعالى عنه فرماتے ہیں:

قدرت رکھنے کے باوجود معاف کر دو اور غصے کے وقت بردباری اختیار کرو.

(نہج البلاغہ، مکتوب69)


■ دوسروں پر غصہ

ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﻮ ﻏﺼﮧ ﺑﮩﺖ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ. ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﻗﺎﺑﻮ ﮨﻮﮐﺮ ﻭﮦ ﺑﺮﺍ ﺑﮭﻼ ﮐﮩﺘﺎ. ﺟﺐ ﻏﺼﮧ ﺍﺗﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﭘﺸﯿﻤﺎﻧﯽ ﮨﻮﺗﯽ. ﻭﮦ ﻏﺼﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ.ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ. ﻟﻮﮔﻮﮞ کے ﻣﺴﺌﻠﻮﮞ کا ﺣﻞ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ. ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﭼﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﭽﮫ ﺗﺪﺑﯿﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﮯ.ﻭﮦ ﺍﺱ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ:

"ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻏﺼﮧ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ."

ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: "ﺟﺐ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻏﺼﮧ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﺭﺧﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻞ ﭨﮭﻮﻧﮏ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﻭ."

ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﯾﮧ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﺣﻞ ﮨﮯ؟

عالم ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: "ﺗﻢ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ ﺳﮩﯽ."

ﺁﺧﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮩﯽ ﮐﯿﺎ ﺍﺳﮯ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻏﺼﮧ ﺁﺗﺎ، ﻭﮦ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﮌﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﺩﺭﺧﺖ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﮑﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ. ﺁﺧﺮ ﺩﻥ ﮔﺬﺭﺗﮯ گئے.ﺍﺳﮯ ﺟﺐ ﻏﺼﮧ ﺁﺗﺎ، ﻭﮦ ﯾﮩﯽ ﻋﻤﻞ ﺩﮨﺮﺍﺗﺎ.ﺁﺧﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻏﺼﮧ ﮐﻢ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ.

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ: 

ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻏﺼﮧ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ.

ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﻟﮯ ﭼﻠﻮ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﮑﯽ ﮨﯿﮟ.ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻭﮨﺎﮞ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ. ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺁﺩﮬﺎ ﮐﯿﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ.

ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺍﺏ ﺍﻥ ﮐﯿﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻟﻮ.ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻭﮦ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺗﮭﮯ.

ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﯾﮧ ﻭﮦ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﻢ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ. ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮐﯿﻞ ﺗﻮ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﯿﮟ.

ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮩﺖ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﺍ.

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ.

🔘 ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﮑﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﮔﺌﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﺸﺎﻥ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﺟﺎئیگا۔


■ غصے میں کیا گیا فیصلہ

ایک دن ایک بادشاہ نے ایک کنویں سے پانی پینے کا ارادہ کیا، جب بادشاہ نے پانی سے جام بھرا تو، اس کا شاہین جام پر جھپٹا اور پانی کو گرا دیا۔


سارا پانی نیچے گر گیا، اور بادشاہ بہت غصے میں آگیا، اپنی تلوار نکالی اور پل بھر میں، اپنے شاہین کو مار گرایا۔


شاہین کو مارنے کے بعد بادشاہ نے کنویں میں ایک بہت ہی مہلک، اور زہریلے سانپ کو دیکھا جس نے کنویں کے سارے پانی کو بھی زہریلا بنایا ہوا تھا، بادشاہ بہت پریشان ہوا، اپنے فعل پر پچھتایا، اور اپنے شاہین کی حرکت پر بہت متاثر ہوا۔


بادشاہ نے اس واقعہ کے بعد سونے کی تاروں سے، شاہین کا مجسمہ بنوایا، جسکے ایک پر، پر لکھوایا کہ:

ایک دوست ہمیشہ اپ کا دوست ہے حتی کہ اس کا کام اپ پر ناگوار گزرے، اور آپ کو غمگین کرے۔


اور اسکے دوسرے پر، پر لکھوایا کہ:

جو عمل بھی غصہ اور بغیر سوچے سمجھے یا جلدی کیوجہ سے ہو، اس پر پچھتانا ضرور پڑتا ہے۔


■ طیش اور غصہ

ترکهان دکان بند کر کے گهر گیا تو کہیں سے گهومتا پهرتا ایک سیاہ کوبرا ناگ اس کی ورکشاپ میں گهس آیا. یہاں بظاہر تو ناگ کی دلچسپی کی کوئی چیز نہیں تهی پهر بهی ادهر سے ادهر اور اوپر سے نیچے جائزہ لیتا پهر رہا تها کہ اس کا دهڑ وہاں پڑی ایک آری سے ٹکرا کر بہت معمولی سا زخمی ہو گیا.

گهبراہٹ میں ناگ نے پلٹ کر آری پر پوری قوت سے ڈنگ مارا. فولادی آری پر زور سے لگے ڈنگ نے آری کا کیا بگاڑنا تها الٹا ناگ کے منہ سے خون بہنا شروع ہو گیا.

اس بار خشونت اور تکبر میں ناگ نے اپنی سوچ کے مطابق آری کے گرد لپٹ کر، اسے جکڑ کر اور دم گهونٹ کر مارنے کی پوری کوشش کر ڈالی.


دوسرے دن جب ترکهان نے ورکشاپ کهولی تو ایک ناگ کو آری کے گرد لپٹے مردہ پایا جو کسی اور وجہ سے نہیں محض اپنے طیش اور غصے کی بهینٹ چڑھ گیا تها.


🔘 بعض اوقات غصے میں ہم دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کا زیادہ نقصان کیا ہے.


اچهی زندگی کیلئے بعض اوقات ہمیں

کچھ چیزوں کو،

کچھ لوگوں کو،

کچھ حوادث کو،

کچھ کاموں کو،

کچھ باتوں کو نظر انداز کرنا چاہیئے. اپنے آپ کو ذہانت کے ساتھ نظر انداز کرنے کا عادی بنائیے، ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ایک رد عمل دکهائیں. ہمارے کچھ رد عمل ہمیں محض نقصان ہی نہیں دیں گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہماری جان بهی لے لیں.

Comments

Popular posts from this blog

What remain after death جب انسان مر جائے تو کیا باقی رہتا ہے ?*

Khulasa e Quran - para number 30 - 🕋 پارہ نمبر 30 خلاصہ قرآن

Khulasa e Quran - para number 29 - 🕋 پارہ نمبر 29 خلاصہ قرآن