*{سب سے افضل صدقہ}* ایک شخص نے رسول اللّٰہ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللّٰہ کے رسول ﷺ کونسا صدقہ سب سے افضل ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ صدقہ جو تم تندرستی کی حالت میں دو جبکہ تمہیں دولت کی حرص ہو، تنگدستی کا خوف ہو اور سرمایہ کاری کی خواہش ہو۔ صدقہ دینے میں اتنی تاخیر نہ کرو کہ روح حلق تک آ پہنچے اور پھر تم (آخری وقت میں) کہو کہ فلاں کو اتنا صدقہ دے دو اور فلاں کو اتنا۔ حالانکہ اب وہ مال تو وارثین کا ہو چکا ہے۔ [مفہومِ حدیث صحیح البخاری
*{سب سے افضل صدقہ}*
ایک شخص نے رسول اللّٰہ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللّٰہ کے رسول ﷺ کونسا صدقہ سب سے افضل ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ صدقہ جو تم تندرستی کی حالت میں دو جبکہ تمہیں دولت کی حرص ہو، تنگدستی کا خوف ہو اور سرمایہ کاری کی خواہش ہو۔ صدقہ دینے میں اتنی تاخیر نہ کرو کہ روح حلق تک آ پہنچے اور پھر تم (آخری وقت میں) کہو کہ فلاں کو اتنا صدقہ دے دو اور فلاں کو اتنا۔ حالانکہ اب وہ مال تو وارثین کا ہو چکا ہے۔
[مفہومِ حدیث صحیح البخاری
Comments
Post a Comment