شب قدر کی عظمت Shab. E. Qadar ki fazilat aur azmat
*شب قدر کی عظمت:*🌸
بِسْمْ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
*{اِنَّا اَنْزَلْنٰــہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرْ}*
’’بے شک ہم نے قرآن پاک کو شب قدر میں اتارا‘‘
یعنی قرآن شریف کو لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر اس رات میں اتارا ہے، یہی ایک بات اس رات کی فضیلت کے لئے کافی تھی کہ قرآن جیسی عظمت والی چیز اس میں نازل ہوئی، چہ جائیکہ اس میں اور بھی بہت سی برکات و فضائل آ گئے ہوں، آگے زیادتی شوق کے لئے ارشاد ربانی ہے:
*{وَمَا اَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرْ}*
’’آپ کو کچھ معلوم بھی ہےکہ شب قدر کیسی بڑی چیز ہے‘‘
یعنی اس رات کی بڑائی اور فضیلت کا آ پ کو علم بھی ہے کہ کتنی خوبیاں اور کس قدر فضائل اس میں ہیں، اس کے بعد چند فضائل کا ذکر فرماتے ہیں:
*{لَیْلَۃُ الْقَدْرْ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ}*
شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘
یعنی ہزار مہینہ تک عبادت کرنے کا جس قدر ثواب ہے، اس سے زیادہ شب قدر میں عبادت کرنے کا ثواب ہے اور اس زیادتی کا علم بھی نہیں کہ کتنی زیادہ ہے۔
*{تنَزَّلُ الْمَلٰئِکَۃُ}*
’’اس رات میں فرشتے اترتے ہیں‘‘
علامہ رازیؒ لکھتے ہیں کہ ملائکہ نے جب ابتداء میں انسان کو دیکھا تھا تو اس سے نفرت ظاہر کی تھی اور بارگاہ الٰہی میں عرض کیا تھا کہ ایسی چیز کو آپ پیدا فرماتے ہیں جو دنیا میں فساد کرے اور خون بہائے۔ اور آج جب کہ توفیق الٰہی سے تو (انسان) شب قدر میں معرفت الٰہی اور اطاعت ربانی میں مشغول ہے تو فرشتے اپنے فقرہ کی معذرت کرنے کے لئے اترتے ہیں۔
*{وَالرُّوْحُ فِیْھَا}*
’’اس رات میں روح القدس یعنی حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی نازل ہوتے ہیں۔‘‘
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہےکہ شب قدر میں حضرت جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کے ایک گروہ کے ساتھ اترتے ہیں اور جس شخص کو ذکر وغیرہ میں مشغول دیکھتے ہیں، اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔
*{بْاِذْنِ رَبّْھِمْ مِنْ کُلّْ اَمْر}*
اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر زمین کی طرف اترتے ہیں۔ مظاہر حق میں لکھا ہے کہ اسی رات میں ملائکہ کی پیدائش ہوئی اور اسی رات میں حضرت آدم علیہ السلام کا مادہ جمع ہونا شروع ہوا، اسی رات میں جنت میں درخت لگائے گئے اور دعاء وغیرہ کا قبول ہونا تو بکثرت روایات میں آیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ اسی رات حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے اور اسی رات بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہوئی۔
*{سَلَامٌ}*
وہ رات سراپا سلام ہے، یعنی تمام رات فرشتوں کی طرف سے مؤمنین پر سلام ہوتا رہتا ہے کہ ایک فرشتوں کی فوج (ٹکڑی) آتی ہے، دوسری جاتی ہے۔
*{ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرْ}*
وہ رات (ان ہی برکات کے ساتھ) تمام رات طلوع فجر تک رہتی ہے، یہ نہیں کہ رات کے کسی خاص حصہ میں یہ برکت ہو اور کسی میں نہ ہو، بلکہ صبح ہونے تک ان برکات کا ظہور رہتا ہے۔
*[فضائل رمضان المبارک، ص: ۳۷۔ ومعارف القرآن، ص: ۷۹۱ جلد: ۸]*
Comments
Post a Comment