اعتکاف کی فضیلت Aitakaf ki Fazilat Hadees
*🍁اعتکاف کی فضیلت* :
نفسِ اعتکاف ان عبادات میں سے ہے جو پچھلے انبیاءِ کرام علیہم السلام کے زمانے سے چلی آرہی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بھی ان کا ذکر فرمایاہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بیت اللہ کی تعمیر کے بعد طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور نماز ادا کرنے والوں کے لیے اسے (بیت اللہ) پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ہے۔ گویا طواف ونماز کی طرح اعتکاف بھی اللہ تعالیٰ کے قرب کا خاص ذریعہ ہے کہ باری تعالیٰ اپنے دو برگزیدہ پیغمبروں کو معتکفین کی خدمت اور ان کے اعزاز میں مسجدِ حرام کی صفائی اور خدمت کا حکم ارشاد فرمارہے ہیں۔
اور رمضان کے اخیر عشرہ کا اعتکاف کرنا رسول اللہ ﷺ کی مستقل سنت ہے، اوراس کی فضیلت اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس کا اہتمام فرماتے تھے، امام زہری ؒ فرماتے ہیں : کہ لوگوں پر تعجب ہے کہ انہوں نے اعتکاف کی سنت کو چھوڑ رکھا ہے حال آں کہ رسول اللہ ﷺبعض امور کو انجام دیتے تھے اور ان کو ترک بھی کرتے تھے ،اور جب سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت سے لے کر وفات تک بلا ناغہ آپ اعتکاف کرتے رہے ،کبھی ترک نہیں کیا ۔ (اور اگر ایک سال اعتکاف نہ کرسکے تو اگلے سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔ کما فی الحدیث)۔اور حضورِ اکرم ﷺ کا ہمیشگی فرمانا (ترک کرنے والوں پر نکیر کیے بغیر) یہ اس کی سنیت کی دلیل ہے ۔
نیز اعتکاف میں اللہ تعالیٰ کے گھر میں قیام کرکے تقربِ باری تعالیٰ کا حصول ہے،دنیا سے منہ موڑنا اور رحمتِ خداوندی کی طرف متوجہ ہونا اور مغفرتِ باری تعالیٰ کی حرص کرنا ہے ۔ اور معتکف کی مثال ایسے بیان فرمائی گئی ہے گویا کوئی شخص کسی کے در پر آکر پڑجائے کہ جب تک مقصود حاصل نہیں ہوگا اس وقت تک نہیں لوٹوں گا، معتکف اللہ کے در پر آکر پڑجاتاہے کہ جب تک رب کی رضا اور مغفرت کا پروانا نہیں مل جاتا وہ نہیں جائے گا، ایسے میں اللہ کی رضا ومغفرت کی قوی امید بلکہ اس کے فضل سے یقین رکھنا چاہیے۔
چناں چہ احادیث میں آپ ﷺ کا طرزعمل اس طرح بیان کیاگیاہے:
صحيح البخاري (3/ 47)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دس دنوں کااعتکاف کرتے تھے۔
صحيح البخاري (3/ 47)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنو ں کااعتکاف کیاکرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کووفات دے دی۔
صحيح البخاري (3/ 51)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہررمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے ،لیکن جو آپ کی وفات کاسال تھا توآپ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔
علمانے لکھا ہے کہ آپ نے بیس دن کااعتکاف اس لیے فرمایاتھا کہ آپ کو منکشف ہوگیاتھاکہ یہ آپ کا آخری رمضان ہے، آپ نے چاہاکہ اعمالِ خیرمیں کثرت کی جائے ؛تاکہ امت کوعمل خیر میں جدوجہد کرنا ظاہرہوجائے اوربعض نے کہاکہ یہ بیس دن کا اعتکاف اس لیے تھا کہ آپ نے اس سے پہلے سال رمضان میں سفرہوجانے کی بناپر اعتکاف نہیں کیاتھا، اس لیے پچھلے سال اعتکاف نہ کرسکنے کی تلافی کرنے کے لیے اس سال بیس دن کااعتکاف فرمایا۔ بہرحال اس سے معلوم ہواکہ اعتکاف کا عمل آپ ﷺ کی نظر میں کتنی بڑی فضیلت والا اور اہم عمل تھا۔ چنانچہ اعتکاف کے فضائل میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں، ذیل میں کچھ نقل کی جاتی ہیں۔
صحيح البخاري (3/ 48)
ترجمہ:حضرت ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں :کہ نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک کے پہلے عشرہ میں اعتکاف فرمایا اور پھر دوسرے عشرہ میں بھی ، پھر ترکی خیمہ سے جس میں اعتکاف فرمارہے تھے، سر باہر نکال کرارشاد فرمایا :کہ میں نے پہلے عشرہ کااعتکاف شبِ قدر کی تلاش اور اہتمام کی وجہ سے کیا تھا ،پھر اسی کی وجہ سے دوسرے عشرہ میں کیا ، پھر مجھے کسی بتلانے والے (یعنی فرشتہ )نے بتلایا کہ وہ رات اخیر عشرہ میں ہے ۔ لہٰذا جو لوگ میرے ساتھ اعتکاف کررہے ہیں وہ اخیر عشرہ کا بھی اعتکاف کریں ۔ مجھے یہ رات دکھلا دی گئی تھی پھر بھلا دی گئی ،(اس کی علامت یہ ہے کہ) میں نے اپنے آپ کو اس رات کے بعد کی صبح میں گیلی مٹی میں سجدہ کرتے دیکھا، لہٰذا اب اس کو اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔ راوی کہتے ہیں :کہ اس رات میں بارش ہوئی اور مسجد چھپر کی تھی وہ ٹپکی اور میں نے اپنی آنکھوں سے نبی کریم ﷺ کی پیشانی مبارک پر کیچڑ کا اثر اکیس(۲۱ویں ) کی صبح کو دیکھا ۔
معلوم ہواکہ اعتکاف کی عبادت کے ذریعے شبِ قدر کا حصول متوقع ہے۔
سنن ابن ماجه (1/ 567)
ترجمہ : نبی کریم ﷺ کاا رشاد ہے : کہ معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے لیے نیکیاں اتنی ہی لکھی جاتی ہیں جتنی کہ کرنے والے کے لیے ۔
اس حدیث میں اعتکاف کرنے والے کے لیے اتنی نیکیوں کی بشارت سنائی گئی ہے جتنی کہ کرنے والے کے لیے، اس کامطلب یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا اعتکاف کی وجہ سے بعض نیک اعمال نہیں کرسکتا،مثلاً مریض کی عیادت ،جنازہ میں شرکت وغیرہ، ایسے اعمال کے بارے میں کہاگیاہے کہ اعتکاف کرنے والا اگرچہ عمل نہیں کرتا ؛مگر ا س کواتناہی ثواب دیاجاتاہے جتناکہ کرنے والے کودیا جاتا ہے۔
المعجم الأوسط (7/ 220)
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص اپنے بھائی کے کسی کام میں چلے پھرے اور کوشش کرے اس کے لیے دس برس کے اعتکاف سے افضل ہے ، اور جو شخص ایک دن کا اعتکاف بھی اللہ کی رضا کے واسطے کرتا ہے تو حق تعالیٰ شانہٗ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں آڑ فرمادیتے ہیں جن کی مسافت آسمان اور زمین کی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 108)
🍁مرد کا گھروں میں اعتکاف کرنا :
مردوں کے لیے ایسی مساجد میں اعتکاف کرنا شرط ہے جہاں امام و مؤذن مقرر ہو، ایسی مساجد کے علاوہ مصلوں اور گھروں میں اعتکاف کرنے کی شرعاً اجازت نہیں، اگر مرد گھر میں یا مصلی میں اعتکاف کرے گا تو اس کا اعتکاف درست نہیں ہوگا۔البتہ خواتین کے لیے اپنے گھر میں جگہ مقرر کرکے اعتکاف کرنے کا حکم ہے۔ مردوں کے لیے ہر قسم کے اعتکاف کے لیے مسجد شرعی کا ہونا ضروری ہے۔
لہٰذا مرد گھر میں اعتکاف نہیں کرسکتے، تاہم رمضان المبارک کا جتنا وقت ہوسکے عبادات اور دعاؤں میں صرف کیجیے،
🍁 کسی وجہ اعتکاف نہ کرسکے :
آپ کی نیت اعتکاف کی ہے، لیکن مجبوراً نہیں کرسکتے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید کیجیے کہ ان شاء اللہ وہ آپ کو اعتکاف کے ارادے پر اجر عطا فرمائیں گے!
🍁عورتوں کا اعتکاف:
عورت کے لیے بھی رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا سنت ہے اور ثواب کا باعث ہے، عورتوں کے لیے مسجد میں اعتکاف کرنا مکروہِ تحریمی ہے، ان کے لیے اعتکاف کی جگہ وہ ہے جسے گھر میں نماز، ذکر، تلاوت اور دیگر عبادت کے لیے خاص اور متعین کرلیا گیا ہو، اور عورتوں کے کے لیے یہ خاص جگہ ایسی ہے جیسے مردوں کے لیے مسجد ہے، اگر گھر میں عبادت کے لیے پہلے سے خاص جگہ متعین نہیں ہے تو اعتکاف کے لیے گھر کے کسی کونے یا خاص حصے میں چادر یا بستر وغیرہ ڈال کر ایک جگہ مختص کرلے، پھر اس جگہ اعتکاف کرے، اور وہ جگہ عورت کے حق میں مسجد کے حکم میں ہوگی، اعتکاف کی حالت میں طبعی اور شرعی ضرورت کے بغیر وہاں سے باہر نکلنا درست نہیں ہوگا، یہی ائمہ احناف کا قول ہے۔
فقہاءِ احناف رحمہم اللہ کے نزدیک عورتوں کے لیے گھر کی مسجد میں اعتکاف کرنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ یہی بہتر ہے۔ باقی اگر عورت مسجدِ شرعی میں اعتکاف کرے (جب کہ پردے اور دیگر شرعی احکامات کی مکمل رعایت ہو) تو اعتکاف تو ہوجائے گا، لیکن یہ مکروہ ہے؛ کیوں کہ موجودہ زمانہ فتنہ وفساد کا زمانہ ہے، مساجد میں مردوں سے اختلاط کا قوی اندیشہ ہے، بےحیائی بھی عام ہے؛ اس لیے موجودہ زمانہ میں جس طرح مسجد میں عورتوں کا نماز کے لیے آنا مکروہ تحریمی ہے، اسی طرح مسجد میں اعتکاف کرنا بھی مکروہِ تحریمی ہے۔
احناف رحمہم اللہ کا استدلال یہ ہے کہ: اعتکاف ایسی عبادت ہے جو مسجد کے ساتھ خاص ہے، اور عورتوں کے لیے گھر کی مسجد بالکل اسی طرح ہے جس طرح مردوں کے لیے مسجد کا حکم ہے، یہی وجہ ہے مسجد میں آپ ﷺ کی موجودگی میں جماعت کے ثواب کی فضیلت کے باوجود عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنے کو پسند فرمایا گیا، اور ان کی گھر کی مسجد کو نماز میں مسجد جماعت کا درجہ دیا گیا، اور ان کی نماز کو گھر کے اندر والے حصے میں پڑھنے کو افضل بتایا گیا، حضرت امّ حمید رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ مجھے آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کا شوق ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:تمہارا شوق (اور دینی جذبہ) بہت اچھا ہے، مگر تمہاری نماز اندرونی کوٹھی میں کمرے کی نماز سے بہتر ہے، اور کمرے کی نماز گھر کے احاطے کی نماز سے بہتر ہے، اور گھر کے احاطے کی نماز محلے کی مسجد سے بہتر ہے، اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد (مسجدِ نبوی) کی نماز سے بہتر ہے۔ چناں چہ حضرت امّ حمید ساعدی رضی اللہ عنہا نے فرمائش کرکے اپنے کمرے (کوٹھے) کے آخری کونے میں جہاں سب سے زیادہ اندھیرا رہتا تھا مسجد (نماز پڑھنے کی جگہ) بنوائی، وہیں نماز پڑھا کرتی تھیں، یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا اور اپنے خدا کے حضور حاضر ہوئیں"۔ (الترغیب و الترہیب:۱/۱۷۸)
لہذا جب گھر میں نماز کے لیے مختص کی گئی جگہ ان کے حق میں نماز کے باب میں مسجد کے حکم میں ہے تو اسی طرح اعتکاف کے باب میں بھی وہ مسجد ہی کے حکم میں ہے، اس لیے نماز اور اعتکاف دونوں مسجد کے ساتھ خصوصیت رکھنے میں برابر ہیں۔
شمس الأئمہ السرخسی (المتوفی : 483هـ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
" ایک حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے جب اعتکاف کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے مسجد میں خیمہ لگانے کا حکم دیا، آپ کے لیے مسجد میں خیمہ لگالیا گیا، پھر جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں اور بہت سے خیمہ دیکھے تو پوچھا کہ یہ کن کے ہیں؟ آپ ﷺ کو بتلایا گیا کہ یہ حضرت عائشہ، حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ہیں تو آپ ﷺ نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور ارشاد فرمایا: کیا تم اس سے نیکی کا ارادہ کرتی ہو؟ ( یہ روایت احادیث کی بہت سی کتابوں میں اختصار وتفصیل کے ساتھ مذکور ہے، بعض روایت میں حضرت زینب رضی کا عنہ کا بھی ذکر آتا ہے، نیز آپ کے اس جملہ" کیا تم اس سے نیکی کا ارادہ کرتی ہو؟" کے شراح نے مختلف مطالب بیان کیے ہیں) پھر آپ ﷺ نے سب خیمہ نکلوانے کا حکم دیا، اور اس عشرہ میں اعتکاف نہیں کیا۔"
جب آپ ﷺ نے ان (ازواجِ مطہرات) کے لیے مسجد میں اعتکاف کو ناپسند کیا باوجود اس کے کہ اس زمانہ میں عورتیں جماعت کی نماز کے لیے مسجد آیا کرتی تھیں تو اس میں زمانہ میں بدرجہ اولیٰ انہیں منع کیا جائے گا۔
خصوصاً جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں عورتوں کو مسجد میں آنے سے منع کیا گیا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود فرمایا کہ آج حضور ﷺ ہوتے تو آپ خود عورتوں کو روک دیتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی مزاج شناس تھیں، وہ سمجھ رہی تھیں کہ حالات اور ماحول بدلنے کی وجہ سے آپ ﷺ بھی خواتین کے مسجد میں آنے کو پسند نہیں فرماتے۔
یہ تفصیل مسنون اعتکاف سے متعلق ہے۔
جہاں تک عورت کے لیے گھر میں نفلی اعتکاف کرنے کا تعلق ہے، تو خواتین اپنے گھروں میں نماز کے لیے مقرر کردہ جگہ پر مسنون اعتکاف کے علاوہ نفلی اعتکاف بھی کرسکتی ہیں، یعنی جتنا وقت وہ اپنے معتکف (اعتکاف کے لیے مقرر کردہ جگہ) میں رہیں گی، ان کو اعتکاف کا ثواب ملتا رہے گا۔
🍁شادی شدہ عورت کا شوہر کی اجازت سے اعتکاف کرنا:
البتہ یہ یاد رہے کہ شادی شدہ عورت کے لیے مسنون یا نفلی اعتکاف میں بیٹھنے کے لیے شوہر سے اجازت لینا لازم ہے۔
Comments
Post a Comment