Shab. E. Barat Manana keisa hai
(شب براءت اور معمولات شب براءت)
تمہید:
شب براءت ہمیشہ سے اہل اسلام میں محترم رات چلی آرہی ہے ۔ لوگ اس میں شب بیداری اور مختلف عبادات کے ذریعے اللہ تعالی کی رضا مغفرت اور دنیا و آخرت کی بھلائی طلب کرتے ہیں۔
بعض لوگ جنہیں ہر اچھی چیز بری اور بری چیز اچھی لگتی ہے وہ شب براءت پر بھی خوب گرجتے برستے ہیں اور اس پر بھی بدعت کے فتوے ہیں ۔ نہ انہیں میلادالنبی ﷺ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کا ذکر خیر اچھا لگتا ہے اور نہ ہی شب براءت کے موقع پر ذکر خدا اچھا لگتا ہے۔اللہ تعالی انہیں عقل و شعور عطافرمائے ۔
یادرکھیے کہ نفلی عبادات کانہ تو کوئی وقت مقرر ہے اور نہ ہی کوئی تعداد، بس اس کے لیے اتنی بات ضروری ہے کہ شریعت مطہرہ نے اسے پسند کیا ہو. نفلی عبادت جب اور جتنی مرضی کی جاۓ اس کے لیے کسی دلیل کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اگر کوئی شخص اس کی بھی دلیل مانگے تو اس جیسا جاہل کوئی نہیں. لہذا شب براءت وغیرہ کے لیے دلیلیں مانگتے پھرنا پرلے درجے کی جاہلانہ حرکت ہے ۔معاملہ تو اس کے برعکس کچھ اس طرح ہے کہ جو ایسی نفلی عبادات کو حرام قرار دے، دلیل اس کو پیش کرنی چاہیے ،ایسی دلیل جس میں صراحتا اس نفلی عبادت سے منع کیا گیا ہو۔
باقی رہا نفلی عبادات کو حرام قراردینے کے لیے بدعت والی احادیث کا سہارا لینا یہ سینہ زوری کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ اس طرح تقریبا ہر اچھے عمل کو بڑی آسانی کے ساتھ حرام قرار دیا جا سکتا ہے.
جب نفلی عبادات کو شریعت نے مطلقاً جائز قرار دے دیا تو کوئی چھوٹا سا بے تکا پہلو نکال کران پر حرمت کے فتوے لگانا دراصل ایک نئی شریعت کا ایجاد ہے ۔
ولاتقولوا لما تصف السنـتـكـم الـكـذب هـذا حـلال وهذا حرام لتفتروا على الله الكذب ان الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون (سورہ نحل)
ترجمہ : اور تمہاری زبانیں جھوٹ بولتی ہیں اس لئے نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھو ۔ بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہ ہوں گے۔تھوڑاسا فائدہ اٹھانا ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
شب براءت کے متعلق روایات و دلائل :
یہ تو تھی عام نفلی عبادات کی بات مگر شب براءت تو ویسے بھی کثیر دلائل سے ثابت ہے ۔ ہم ذیل میں اہل اسلام کے اطمینان قلب کے لیے مولانا محمد احمد برکاتی کی مفصل کتاب ” شب برات کے فضائل و دلائل مطبوعہ نوریہ رضویہ پبلی کیشنز لاہور سے چند منتخب روایات و دلائل کاتذکرہ کرتے ہیں۔
1..حضور ﷺ کا جنت البقیع میں شب براءت منانا:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ ایک دن جب حضور ﷺ کی میرے گھر میں شب بسری کی باری تھی ۔رات کا وقت ہوا، میں سورہی تھی ۔اچا نک میری آنکھ کھلی تو میں نے آپ ﷺ کو بستر پر نہ پایا ۔ میں گھبرا کر آپ کو تلاش کرنے کے لیے باہر گئی۔ تلاش کرتے کرتے جنت البقیع (مبارک قبرستان جو کہ آپ کے گھر کے پاس ہی تھا)پہنچی تو حضور ﷺ کو دعا میں مصروف پایا۔ حضور ﷺ نے ارشافر مایا کہ کیا تم نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺتم سے خیانت کریں گے؟ میں نے عرض کیا کہ یہ بات نہیں ہے لیکن میں نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنی کسی دوسری زوجہ محترمہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی پندرہ شعبان کی رات کو آسمان دنیا پر (كـمـا یليـق لشانہ) تشریف فرما ہوتا ہے اور قبیلہ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کی بخشش فرما دیتا ہے۔
(جامع ترمذی ، کتاب الصوم باب ماجاء فی لیلتہ النصف من شعبان/ سنن ابن ماجہ کتاب اقامة الصلوة والسنۃ فیھا یاب ماجاء فی لیلة النصف من شعبان/ مسند احمد بن حنبل، ج6،ص238) ۔
2..موت اور رزق کا تعین:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مرفوعا روایت کرتی ہیں کہ چار راتوں میں موت کے وقت اور رزق کا تعین کیا جاتا ہے ۔ اور وہ را تیں یہ ہیں: نصف شعبان کی رات (شب براءت) عیدالاضحی ٰکی رات، عید الفطر کی رات، شب عرفہ یعنی 9 ذوالحج.
(موسوعۃ اقوال الدارقطنی،حرف سین ، ج17، ص76 /لسان المیزان عسقلانی ج 1، ص 249)
3..شـب بـراءت کے فضائل پر حضور ﷺ کا بیان :
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے مجھے فر مایا کہ کیا تو جانتی ہے کہ اس شب یعنی نصف شعبان کی شب میں کیا ہوتا ہے؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! اس رات میں کیا خاص بات ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشادفر مایا کہ اس رات میں اس سال پیدا ہونے والے ہر بچے کا نام لکھ دیا جاتا ہے، اس رات میں لوگوں کے اعمال بلند کئے جاتے ہیں اور لوگوں کے رزق اتارے جاتے ہیں ۔
(الدعوات الکبیر، از امام بیہقی / مشکوۃ المصابيح ص 115 / غنیۃالطالبین ،ج 1ص 345)
4..شب براءت کے چار نام :
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ اور محدثین کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ نصف شعبان کی شب کا نام لیلتہ الرحمن لیلۃ المبار کہ لیلتہ الصک اور لیلۃ البراءت ہے ۔
(تفسیر قرطبی، جلد نمبر 16صفحہ109/تفسیر کبیر سورة الدخان ، آیت 4 / تفسیر روح البیان، سورة الدخان ، آیت 4۔ / تفسیر روح المعانی سورة الدخان،آیت 4)
5..شب براءت میں اہتمام کے ساتھ عبادت کرنے کے متعلق حضرت عمر بن عبدالعزيز رضی اللہ کا سرکاری حکم :
حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے گورنر حجاج بن ارطاۃ (اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بھائی عدی بن ارطاۃ ) کو حکم لکھا: تجھ پر لازم ہے کہ سال میں کم از کم چا راتوں میں خصوصی طور پر عبادت کا اہتمام کیا کرو کیوں کہ اللہ تعالی ان راتوں میں وافر رحمت عطافرماتا ہے ۔ راتیں یہ ہیں :ماہ رجب کی پہلی رات ۔۔۔ نصف شعبان کی رات (شب براءت) ستائیس رجب (شب معراج) ۔۔ عید الفطر کی رات.
(غنیۃ الطالبین ج1 ،ص327 / التبصرۃ ابن جوزی، ج 2 ص 13 / الترغیب والتر ہیب اصفہانی، ج2، ص393 / فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، ج3، ص454)
6..شـب بـرات میں فی سبيل الله خرچ کرنا :
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ محمد بن علی بن علق بہت سخی تھے اور کثرت سے صدقہ کرنے والے تھے۔ انہوں نے ایک ہی دن میں ایک ہزار فقیروں کو کپڑوں کے جوڑے پہنا دیے ۔وہ کثرت سے نوافل پڑھنے والے تھے ۔انہوں نے اپنی سخاوت کے ذریعے اولین طور پر شب برات کی عظمت و جلالت کو واضح کیا ۔
(البدایہ والنہایہ، ج 12، ص5 مطبوعہ مکتبۃ المعارف بیروت)
7.. شب برات کے موقع پر مساجد میں چراغاں کرنا :
402 ھ میں بنی فاطمہ کے دور حکومت کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے علامہ مقریزی نے واضح کیا ہے کہ فاطمی حکمرانوں خصوصاً ابوعلی منصورا لحکم بامر اللہ کے عہد حکومت میں شب برات میں عوامی جوش و جذبہ سے مساجدکی آرائش و زیبائش کا اہتمام کیا جا تا تھا ،وہ لکھتے ہیں:
وفي ليلة النصف من شعبان كثر ايقادالـقـنـاديـل فـي الـمـسـاجـد وتـنـافـس الناس فی ذالک.
یعنی شب برات کے موقع پر مسجدوں میں قندیلوں کو روشن کرنے (لائٹینگ) کی بہت زیادہ کثرت کی جاتی تھی اور لوگ مسجدوں میں شب برات میں روشنی کرنے میں ایک دوسرے سے باہم مقابلہ کیا کرتے تھے۔
(اتعاظ الخنفاء باخیار الائمۃ الفاطمیین الخلفاء، مقریزی)
8..مصر میں حکومتی سطح پر شب براءت کا اہتمام :
مصری قاضی شب برات کے موقع پر ایسی مساجد کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے تھے جن کی اصلاح اور درستگی کی ضرورت ہوتی تھی جبکہ مال دار لوگ حصول ثواب کے لئے ان کے ساتھ تعاون کرتے ہوۓ اپنی دولت خرچ کرتے تھے۔ قاضی القضاۃ مالداروں سے کافی مقدار میں فنڈ حاصل کر کے شب برات میں سوار ہو کر باہر نکلتا اور پھر جب وہ واپس پلٹتا تو جتنی اس رات مساجد کی تعمیر وترقی ہوتی ویسی پورے سال میں نہیں ہوتی تھی۔
(رفع الاصر عن قضاة المصر، ج1، ص 192)
9..شـب بـراءت کے بارے میں شامی ائمہ کا واضح موقف :
شام کے علماء کی ایک جماعت اس بات کے حق میں ہے کہ اس رات میں مساجد میں جمع ہو کر عبادت کرنا زیادہ بہتر ہے ۔امام خالد بن معدان اور حضرت لقمان بن عامر اوران کے علاوہ بھی کئی محدثین شب براءت میں خصوصی لباس پہنتے، خوشبوئیں لگاتے ،سرمہ لگاتے اور مسجدوں میں قیام (عبادت کرتے تھے۔ حضرت امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ علیہ نے بھی انہیں کی موافقت کی ہے اور ساتھ ہی واضح بھی کر دیا ہے کہ شب براءت میں عبادت بدعت نہیں ہے۔ اور یہ بات امام کرمانی شارح بخاری نے اپنے مسائل میں بھی ذکر کی ہے۔
(لطائف المعارف، وظائف شهر شعبان، باب المجلس الثانی في نصف من شعبان)
10..عـلامـه ابـن تیمیه کابیان:
مسلک اہل حدیث کے مقتدا علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں: جہاں تک نصف شعبان کی شب (شب براءت کی بات ہے اس میں بہت فضیلت ہے ۔اسلاف شب برات میں نماز پڑھتے رہے ہیں.
(الاختیارات العلمیہ ص 58 / الفتاوی الکبرٰی، ج5، ص342 دار المعرفت بیروت)
11..عـلامـه نـاصرالدین البانی کا شب براءت کی روایت کو صحیح قرار دينا:
مشہوراہل حد یث عالم علامہ ناصرالدین البانی نے درج ذیل حدیث کومستند قرار دیا ہے حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ اپنے بچے اور دادا (حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی شب برات کو آسمان دنیا پر اجلال فرماتا ہے اور سواۓ مشرک اور جس کے دل میں کینہ ہو سب کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے. (ظلال الجنۃ تخرج السنہ لابن ابی عاصم، ج1، ص 262 (البانی: المکتب لاسلامی بیروت)
12..علامه ثناء اللہ امرتسری کا تبصرہ :
شبہ برات کا اس دور میں سب سے زیادہ انکار کرنے والوں کے روح رواں علامہ ثناء اللہ امرتسری صاحب نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ شب برات کو کارخیر کرنا بدعت نہیں ہے ۔ (فتاوی ثنائیہ جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 65)
13..اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کا نظریه:
اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضابریلوی نے اپنے ایک عقیدت مند کو شب برات کے حوالے سے ایک خط ارسال فرمایا ۔آسان لفظوں میں ملاحظہ ہو۔
آپ نے فرمایا: شب برات قریب ہے، اس رات تمام بندوں کے اعمال اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں اللہ تعالی حضور پر نور شافع یوم النخور ﷺ کے طفیل مسلمانوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ۔سواۓ چند بندوں کے جن میں ایسے دو مسلمان بھی ہیں جو کسی دنیوی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رنجش رکھتے ہوں ان کے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے ان کو رہنے دو جب تک یہ آپس میں صلح نہ کرلیں۔
لہذا اہلسنت کو چاہیے کہ حتی الوسع 14 شعبان غروب آفتاب سے پہلے ایک دوسرے کے حقوق ادا کر دیں یا معاف کرا لیں ۔اس طرح ان کے اعمال نامے اللہ تعالی کی بارگاہ میں حقوق العباد سے خالی ہو کر پیش ہوں گے باذنہ تعالی ۔
باقی حقوق اللہ کے لئے سچی توبہ کافی ہے ۔حدیث پاک میں ہے: التـائـب مـن الذنب كمن لا ذنب له . یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو ۔
امید ہے کہ اگر آدمی کا عقیدہ درست ہو تو اس کو اس رات مکمل طور پر معاف کر دیا جاۓ گا۔ باذنه تعالى وهو الغفور الرحيم.
فرمایا: یہ مسلمانوں کی باہمی صلح اورا یک دوسرے کے حقوق کی معافی کا طریقہ ہمارے یہاں بریلی شریف میں سالہا سال سے جاری ہے ۔امید ہے کہ آپ بھی اپنے علاقے کے مسلمانوں میں ہی طریقہ جاری کر کے اس حدیث کے مصداق بنیں گے۔ من سن في الاسلام سنة حسنة فله اجـره و اجـر مـن عـمـل بها الى يوم القيامة لا ينقص من اجورهم شيئی.. یعنی جو اسلام میں اچھا طریقہ رائج کرے اس کے لئے اس طریقے کو رائج کرنے کا ثواب ہے اور قیامت تک جولوگ اس طریقے پر عمل کریں گے ان سب کا اجر بھی اس کو ملے گا لیکن ان کے اپنے ثوابوں میں بھی کوئی کمی نہیں ہوئی ۔
آپ سے گذارش ہے کہ اس فقیر کی دنیا وآخرت کی خیر و بھلائی کے لئے دعافرمائیں ۔ فقیر بھی آپ کے لئے دعا کرتا ہے اور آئندہ کرے گا۔ سب مسلمانوں کو سمجھا دیا جائے کہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں نہ تو صرف زبان دیکھی جاتی ہے اور نہ ہی اللہ تعالی کو نفاق پسند ہے، صلح اور معافی سب کے دل سے ہونے چاہییں والسلام فقیراحمد رضا قادری عفی عنه از بریلی
( کلیات مکاتیب رضا ص،356۔ 357)
14..اهـل حـديـث عـالـم علامه عبد الرحمن مبارک پوری کا تبصرہ :
وہ شب برات کے نام کا تعارف کرواتے ہوۓ کہتے ہیں:
ھی الـلـيـلـة الـخـامـسة عشـر مـن شـعبـان وتسمى ليلة البراءة.. ما ہ شعبان کی پندرہویں رات کا نام شب براءت ہے ۔ (تحفۃ الاحوذی ج 3، ص 364)
مزید لکھتے ہیں: اعلم انه قد ورد في فضيلة ليلة النصف من شعبان عدۃ احـاديـث مـجـمـوعها يدل على ان لها اصلا.. یعنی خوب جان لو کہ نصف شعبان (شب براءت) کی فضیلت میں بڑی تعداد میں احادیث وارد ہوئی ہیں جن کا مجموعہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ شب برات کی اصل ہے۔
(تحفۃ الاحوزی ج3 ، ص 365)
15..شـب بـرات میں عبادت الھی سے قبل غسل کرنا سنت ہے :
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ نصف شعبان کی شب رسول ﷺ میرے پاس تشریف لاۓ آپ بستر پر تشریف فرما ہوۓ۔ پھر آپ کھڑے ہوۓ ، خود پر پانی بہایا اور تیزی سے باہر تشریف لے گئے۔ چنانچہ میں بھی آپ کے پیچھے گئی تو آپ جنت البقیع میں سجدہ کی حالت میں یہ الفاظ ادافرما رہے تھے۔ اسجد لک خیالی و سوادی الخ (لسان المیزان، ج5، ص426)۔
16..شب برات میں غسل کرنے کا فقہ میں ثبوت :
مراقی الفلاح میں ہے کہ سولہ مواقع پر غسل کرنا مستحب ہے کیوں کہ ان مواقع میں اجر بڑھتا ہے۔ ان میں سے ایک موقع شب برأت کا بھی ہے ۔ غسل شب بیداری اس رات کی عظمت کی نیت سے کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس رات میں رزق اور موت کے فیصلے ہوتے ہیں ۔
(مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، ص60)۔
17..جادو سے حفاظت:
علامہ مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں اگر اس رات کو بیری کے سات پتے پانی میں جوش دے کر غسل کرے تو ان شاء اللہ تمام سال جادو کے اثر سے محفوظ رہے گا۔ (اسلامی زندگی: ص 134 طبع مکتبۃالمدینہ کراچی )۔
اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی کا بھی اس پر عمل رہا ہے ۔ (اعمال رضا، ص 266)
18..سو رکعت نفل قدیم اہل مکہ کا عمل :
امام فاکہی متوفی 359 ھ لکھتے ہیں اہل مکہ آج تک جب بھی شب برات آتی ہے ، مسلمان مرد اور عورتیں مسجد حرام کی طرف آتے ہیں ۔ یہاں نمازیں پڑھتے ہیں ،طواف کرتے ہیں ،ساری رات جاگ کر گزارتے ہیں اور صبح تک قرات قرآن کرتے ہیں اور یوں تلاوت میں ہی رات گزر جاتی ہے ۔ان میں بعض لوگ ا یک سو نقل ادا کرتے ہیں اور ہر رکعت میں دس مرتبہ قل ھواللہ احد پڑھتے ہیں، وہ آب زم زم بھی پیتے ہیں، اس سےغسل کرتے ہیں ۔ نیز وہ اس سے جسمانی و روحانی بیماریوں کا علاج کرتے ہیں ۔اور اس رات میں ان اعمال سے برکتیں سمیٹتے ہیں ۔اس سلسلے میں بہت سی احادیث بیان کی جاتی ہیں ۔
(اخبار مکہ، ج 5 ،ص 23، باب ذکراہل مکۃ، لیلة النصف من شعبان )
19..حضرت ابن عمر رضی الله عنهما سے مرفوعا سونفل کا ثبوت :
حافظ ابن حجر عسقلانی نے بیان کیا کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مرفوعاً روایت ہے حضور ﷺ نے ارشادفر مایا کہ جس شخص نے بھی شب برات میں ایک سو نفل میں ایک ہزار مرتبہ قل هوالله احد ‘‘پڑھا تو وہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اللہ تعالی اس کی طرف اس کے خواب میں ایک سورحمت والے فرشتے نہ بھیج دے جواسے جنت کی بشارتیں دیتے ہیں۔
(لسان المیزان ، جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 271)
20..شب برات میں روزہ رکھنے کا حکم :
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشادفر مایا کہ جب پندرہ شعبان کی شب آۓ تو رات کو قیام (عبادت) کرو اور دن میں روزہ رکھو، پس بےشک اللہ تعالی سورج غروب ہوتے ہی آسمان دنیا پر اپنی خاص رحمت نازل فرما کرارشاد فرماتا ہے۔ ہے کوئی تم میں سے مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اس کو بخش دوں؟ ہے کوئی تم میں سے رزق مانگنے والا کہ میں اس کو رزق دے دو؟ ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اس کو عافیت دوں؟ ہے کوئی جواپنی مزید دعائیں پوری کرواۓ؟ ۔ یہ آوازیں طلوع فجر تک مسلسل آتی رہتی ہیں ۔
(مشکوۃ المصابيح، ص 115 / سنن ابن ماجہ ، کتاب اقامت الصلوة والسنۃ فیھا باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان ) ۔
21..نماز عصر کے بعد کا عمل :
شب برات والے دن بعد از نماز عصر غروب آفتاب سے پہلے 40 بار لاحول ولاقوة الا بالله العظيم پڑھنا چاہیے۔
23..نماز مغرب کے بعد کا عمل :
شعبان المعظم کی پندرہویں رات کو بعد مغرب دو دونفل تین بار پڑھے جائیں پہلی با راپنی لمبی عمر اور صحت کے لیے دونفل پڑھ کر سورہ یسین پڑھے۔۔ دوسری بار مصیبت دور کرنے کے لیے دونفل پڑھ کر سورہ یسین پڑھے تیسری بار محتاجی سے بچنے کے لیے دونفل پڑھ کر سورہ یسین پڑھے ۔۔بعدازاں یہ دعامانگے۔
اللَّهُمَّ يَا ذَا الْمَنِّ وَلَا يُمَنُّ عَلَيْهِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ، يَا ذَا الطَّوْلِ وَالإِنْعَامِ. لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ظَهْرَ اللَّاجِئينَ، وَجَارَ الْمُسْتَجِيرِينَ، وَأَمَانَ الْخَائِفِينَ. اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنِى عِنْدَكَ فِى أُمِّ الْكِتَابِ شَقِيًّا أَوْ مَحْرُومًا أَوْ مَطْرُودًا أَوْ مُقَتَّرًا عَلَى فِى الرِّزْقِ، فَامْحُ اللَّهُمَّ بِفَضْلِكَ شَقَاوَتِى وَحِرْمَانِى وَطَرْدِى وَإِقْتَارَ رِزْقِي، وَأَثْبِتْنِى عِنْدَكَ فِى أُمِّ الْكِتَابِ سَعِيدًا مَرْزُوقًا مُوَفَّقًا لِلْخَيْرَاتِ، فَإِنَّكَ قُلْتَ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ فِى كِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكَ الْمُرْسَلِ: ﴿يَمْحُو اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾، إِلهِى بِالتَّجَلِّى الْأَعْظَمِ فِى لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَهْرِ شَعْبَانَ الْمُكَرَّمِ، الَّتِى يُفْرَقُ فِيهَا كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ وَيُبْرَمُ، أَنْ تَكْشِفَ عَنَّا مِنَ الْبَلَاءِ مَا نَعْلَمُ وَمَا لَا نَعْلَمُ وَمَا أَنْتَ بِهِ اَعلَمُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ. وَصَلَّى اللهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِى الأُمِّى وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ والحمدلله رب العلمين.
23.. بہتر یہ ہے کہ چودہ شعبان کو اپنے مسلمان بھائیوں کو حقوق معاف کر دیں اور ان کے حقوق معاف کرا لیں تا کہ ذمہ سے حقوق العبادساقط ہو جائیں ۔ (اعمال رضا،ص 266)
Comments
Post a Comment