Hazrat Baba Fareed rehmmatullah aleh karamat

 ایک روایت کے مطابق جب حضرت بابا فرید ؒ کو خاندان چشتیہ کی خلافت  بخشی گئی، اس وقت بابا فریدؒ کی عمر تیس سال تھی۔ ہندوستان کے سب سے بڑے جوگی کا سامنا .. ہِندوستان میں آپ ؒ کے عَارفانہ کمالات سے مُتاثر ہوکر بے شُمار ہِندو حلقہ ٔ اسلام میں داخل ہورہے تھے، اِس پر برہمنوں کو بڑی تشویش تھی۔ اُنہوں نے مل کر ایک ایسے جوگی کا اِنتخاب کیا جو اَپنے فَن میں دَرجۂ کمال رکھتاتھا۔ہِندو دھرم کی بَرتری جتانے کے لیے ہِندوستان کا سَب سے بڑاجوگی بابافریدؒ کی خدمت میں حاضرہوا۔ اَپنی مَذہبی رَسم کے مطابق ڈنڈوت کیا(دونوں ہاتھ جوڑ دیے) پھر زمین پر سَر رَکھ دیا۔ حَاضرین اِنتظار میں تھے کہ جوگی سَراٹھائے، مگر یہ گھڑیاں طویل ہوگئیں۔آخر حضرت بابا فرید نے مُسکراتے ہوئے فرمایا،’’مہمان سراٹھائو۔‘‘لیکن جوگی بدَستور سجدے میں پڑارہااور اپنے جسم کو ہلکی سی جُنبش بھی نہ دے سکا۔آخر بابافرید نے اَپنی نَشست سے اُٹھے اور دَست مُبارک کاسہارادے کر جوگی کو کھڑاکیا اور اِس شُعبدے باز سے فرمایا،’’ جو نیت لے کریہاں آئے تھے، اُس پر بے خوف وخطر عمل کرو۔‘‘ جوگی لرزتے جِسم اور گِڑگڑاتی آواز میں بولا،’’ جو اپنا سَر نہ اُٹھاسکتاہو ،وہ اَپنے اِرادے پرکیاعمل کرے گا؟‘‘ پھر وہ دوبارہ زمین پر سررکھ کر رونے لگا،’’بابا!میراتو سرمایہ لُٹ گیا اب تو میں ایک بھکاری کی مانند ہوں۔‘‘حضرت بابا فرید نے اسے کلمۂ طیبہ کی تلقین کی ،جس پر اس نے اسلام قبول کرلیا۔ جوگی یہ کہہ کر چلاگیا،’’بابا! میں بہت جلد واپس آئوں گا، میرے ذمے کِسی کا قرض باقی ہے۔ یہ بوجھ اُتار دوں۔‘‘ جب وہ چلاگیاتو بابافرید نے حاضرین سے فرمایا،’’جب اُس نے زمین پر سَر رکھا ،میں نے حق تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ سَر ہمیشہ تیری بارگاہ میں جھکارہے۔ اللہ نے اِس عَاجز کی دُعاقبول کرلی۔‘‘ جوگی برہمنوں کے پاس پہنچا توانہوں نے پوچھا،’’ کیا تُو بھی اُس فقیر سے مَات کھاگیا؟‘‘ جوگی نے جواب دیا،’’ میرااور بابا کا مقابلہ ہی کیا؟ بس ایک نادان دِیا(چراغ) تھا جو سورج کے مقابل چلاگیا اور اپنی رَوشنی کھو بیٹھا۔ تم ساری دنیا کے خزانے بھی میرے قدموں میں ڈھیر کردو تو میں بابا کی غلامی نہیں چھوڑوں گا،اُن کے صدقے مُجھے کائنات کی سَب سے بڑی دولت حاصل ہوئی ہے۔‘‘برہمنوں نے کہا،’’کون سی دولت؟‘‘ جوگی نے سرشاری سے کہا ،’’ وہ ایک سجدہ جو میں نے اللہ کی ذات کو کیا۔‘‘یہ کہہ کر وہ جوگی بابا فرید کے آستانے عالیہ کی جانب چلاگیا۔

Comments

Popular posts from this blog

What remain after death جب انسان مر جائے تو کیا باقی رہتا ہے ?*

Khulasa e Quran - para number 30 - 🕋 پارہ نمبر 30 خلاصہ قرآن

Khulasa e Quran - para number 29 - 🕋 پارہ نمبر 29 خلاصہ قرآن