روح، عالمِ ارواح کی مسافر؛ بدن، عالمِ ناسوت کی سواری؛ اور عقل، درمیان کا راہنما ۔Rooh , jisam aur aqal ka taluq - روح، عالمِ ارواح کی مسافر؛ بدن، عالمِ ناسوت کی سواری؛ اور عقل، درمیان کا راہنما ۔

 روح، عالمِ ارواح کی مسافر؛ بدن، عالمِ ناسوت کی سواری؛ اور عقل، درمیان کا راہنما۔ اگر روح، جو ربّ کے نور سے جڑی ہے، عقل کو صراطِ مستقیم کا پتہ نہ دے، تو عقل گمراہ ہو جاتی ہے، اور بدن کی حیوانی قوتیں باگ ہاتھ میں لے لیتی ہیں۔ تب زندگی محض خواہشات کا تعاقب بن کر رہ جاتی ہے: کھانا، پینا، سونا، اور فنا۔پھر

مقصدِ حیات کھو جاتا ہے، اور انسان ایک قیمتی کارواں ہوتے ہوئے بھی منزل سے محروم رہتا ہے۔اگر روح، عقل کو الہامی روشنی دے، تو بدن بھی راہِ حق پر رواں ہو جاتا ہے یہی اصل کامیابی ہے یعنی جسم، عقل اور روح کا ربانی ہم آہنگی میں چلنا


تشریحی نکات 


روح: اصل مسافر، جو دنیا میں بدن کی گاڑی میں سوار ہے۔


عقل: ڈرائیور، جو ہدایت کا محتاج ہے۔


بدن: طاقتور گھوڑا، جو خواہشات کی طرف دوڑنے کا عادی ہے۔


صراطِ مستقیم: وہ راستہ جو صرف روح کے رب سے تعلق کے ذریعے عقل کو دکھائی دیتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

What remain after death جب انسان مر جائے تو کیا باقی رہتا ہے ?*

Khulasa e Quran - para number 30 - 🕋 پارہ نمبر 30 خلاصہ قرآن

Khulasa e Quran - para number 29 - 🕋 پارہ نمبر 29 خلاصہ قرآن