Khulasa e Quran - para number 28 - 🕋 پارہ نمبر 28 خلاصہ قرآن

 خلاصہ مضامين قرآن 📝 اہم نکات

🕋 *پارہ نمبر 28:* 

✏️ *فضائل انصار:* 

(۱)ایسے مطیع ہیں کہ باوجود طنیت کے جو کہ غرورونخوت کا سبب ہے،ایمان لانے میں دیر نہیں کی-

(۲)حب الہٰی اور حب نبویﷺ کا ایسا غلبہ ہے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے پکے عاشق وشیدائی ہیں-

(۳)بوجہ تزکیہ نفوس،حرص،حسداور بخل سے بری ہیں،حتی کہ مہاجرین کی حاجات کے مقابلے میں اپنی حاجات کو بھلا دیتے ہیں،یہ دونوں طائف صاحب فلاح دارین ہیں.

(الحشر آیت نمبر ۸-۹)

✏️ *عورتوں کی بیعت:* 

 رسول اللہﷺ کے لئے عورتوں سے بیعت سے متعلق ایک قانون بیان کیا گیا ہے اور وہ قانون یہ ہے کہ اے اللہ کے رسولﷺ!اگر مؤمن عورتیں آپﷺ کے پاس آئیں اور مندرجہ ذیل باتوں پر بیعت کرنے کے لیے تیار ہوں،تو آپﷺ بیعت کر لیا کریں-

(۱) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھرائیں گی-

(۲)چوری نہیں کریں گی-

(۳)بدکاری نہیں کریں گی-

(۴)اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی-

(۵)کوئی بہتان کی اولاد نہیں لائیں گی کہ غیر کے بچے جو خاوند کا بچہ کہہ ڈالیں-

(۶)کسی بھی معاملے میں آپﷺ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کریں گی-(الممتحنہ آیت نمبر ۱۰-۱۳)


📝 *اہم نکات* 

⭐ زمانہ جاہلیت میں ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا یہ اشارہ حضرت خولہ بنت مالکؓ کے واقعہ کی طرف ہےجن کے شوہر نے ان سے ظہار کرلیا.  *ظہار* کا مطلب ہے بیوی کو یہ کہہ دینا "تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے". زمانہ جاہلیت میں ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا حضرت خولہ سخت پریشان ہوئ. وہ طلاق نہیں چاہتی تھیں رب نے آسمانوں میں ان کی فریاد سن لی. اللہ تعالٰی نے قرآن کریم کی چند (المجادلة:1,2,3,4) آیات نازل فرمائی جو خولہ بنت ثعلبہ کے متعلق تھیں۔

"تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ( یعنی انھیں ماں کہہ بیٹھتے ہیں ) وہ دراصل ان کی مائیں نہیں بن جاتیں ، ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے ، یقینًا یہ لوگ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں بے شک اللہ تعا لٰی معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے ۔" (المجادلة:2)

⭐ یہودیوں سے دوستانہ تعلق رکھنے  اور جھوٹی قسمیں کھانے والوں کے لیۓ جہنم تیار کر رکھی ہے . (آیت 15 المجادلة)

⭐  " *لِّینَۃٍ* "کھجور کی ایک قسم، مومن کی مثال تروتازہ کھجور کی مانند ہے. لِّینَۃٍ تر و تازہ نرم و نازک خوبصورتی والا درخت ہے.

⭐ *مال غیمت اور مال فے کا حکم:* 

✨ *مال غنیمت* =جو مال باقائدہ لڑائ اور غلبہ حاصل کرنے کے بعد ملے وہ غنیمت ہے. حکم یہ کہ اس مال کے 5 حصے کیۓ جائیں چار مجاہدین میں تقسیم ہونگے  اور پانچواں حصہ اللہ اور رسولﷺ کے لیۓیعنی مسلمان کے بیت المال کے لیۓ ہے.

✨ *مال فَے* =وہ مال جو مسلمانوں کو بغیر جنگ کیۓحاصل ہو. وہ مال جو دشمن چھوڑ کر بھاگ جاۓ یا  صلح کے ذریعے حاصل ہو .

اللہ نے فرما دیا! یہ مجاہدین میں مال غنیمت کی طرح تقسیم نہ ہو گا سارے کا سارا اللہ اور رسولﷺ کا حصہ ہےیعنی مسلمان کے بیت المال میں جمع ہو گا .

⭐اہل جنتی کی 120 صفیں ہونگی جس میں سے 80 امت محمدی کی ہونگی.

⭐ *جہاد کا ایک انتہائ نیک عمل جو اللہ کو محبوب ہے :* 

اللہ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو صف بستہ جہاد کرتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائ ہوئ عمارت ہیں. (آیت 4 الصف)

⭐ *نور بخشنے والے کام:* 

✨وضو/ نماز

✨مسجد پیدل چل کر جانا

✨جمرات کنکریاں مارنا

✨حج  عمرہ  سر منڈوانہ

✨سورۃ الکہف کی تلاوت 

✨صدقہ کرنا خالص نیت کے ساتھ اللہ کے راستے میں

Comments

Popular posts from this blog

What remain after death جب انسان مر جائے تو کیا باقی رہتا ہے ?*

Khulasa e Quran - para number 30 - 🕋 پارہ نمبر 30 خلاصہ قرآن

Khulasa e Quran - para number 29 - 🕋 پارہ نمبر 29 خلاصہ قرآن