Summary of Quran parah 16 - خلاصۃ القرآن سولہواں پارہ
*🌹مختصر خلاصتہ القرآن🌹*
*سولہواں پارہ*
اس پارے میں 17 رکوع ہیں
*اس پارے میں تین حصے ہیں:*
۱۔ سورۂ کہف کا بقیہ حصہ 3 رکوع
۲۔ سورۂ مریم مکمل 6 رکوع
۳۔ سورۂ طٰہٰ مکمل 8 رکوع
(۱) *سورۂ کہف کے بقیہ حصے میں دو باتیں یہ ہیں:*
۱۔ حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا قصہ (جو پندرھویں پارے کے آخر میں شروع ہوکر سولہویں پارے کے شروع میں ختم ہورہا ہے)
۲۔ ذوالقرنین کا قصہ
۱۔ *حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا قصہ:*
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب اللّٰه کی طرف سے یہ اطلاع ہوئی کہ سمندر کے کنارے ایک ایسے صاحب رہتے ہیں جن کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں تو آپ ان کی تلاش میں چل پڑے، چلتے چلتے آپ سمندر کے کنارے پہنچ گئے، یہاں آپ کی ملاقات حضرت خضر علیہ السلام سے ہوئی اور آپ نے ان سے ساتھ رہنے کی اجازت مانگی، انھوں نے اس شرط کے ساتھ اجازت دی کہ آپ کوئی سوال نہیں کریں گے، پھر تین عجیب واقعات پیش آئے، پہلے واقعے میں حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کے تختے کو توڑ ڈالا جس کے مالکان نے انہیں کرایہ لیے بغیر بٹھالیا تھا، دوسرے واقعے میں ایک معصوم بچے کو قتل کردیا، تیسرے واقعے میں ایک ایسے گاؤں میں گرتی ہوئی بوسیدہ دیوار کی تعمیر شروع کردی جس گاؤں والوں نے انہیں کھانا تک کھلانے سے انکار کردیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تینوں مواقع پر خاموش نہ رہ سکے اور پوچھ بیٹھے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تیسرے سوال کے بعد حضرت خضر علیہ السلام نے جدائی کا اعلان کردیا کہ اب آپ میرے ساتھ نہیں چل سکتے، البتہ تینوں واقعات کی اصل حقیقت انھوں نے آپ کے سامنے بیان کردی، فرمایا کشتی کا تختہ اس لیے توڑا تھا کیونکہ آگے ایک ظالم بادشاہ کے کارندے کھڑے تھے جو ہر سالم اور نئی کشتی زبردستی چھین رہے تھے، جب میں نے اسے عیب دار کردیا تو یہ اس ظالم کے قبضے میں جانے سے بچ گئی، یوں ان غریبوں کا ذریعۂ معاش محفوظ رہا۔ بچے کو اس لیے قتل کیا کیونکہ یہ بڑا ہوکر والدین کے لیے بہت بڑا فتنہ بن سکتا تھا ، جس کی وجہ سے ممکن تھا وہ انہیں کفر کی نجاست میں مبتلا کردیتا، اس لیے اللّٰه نے اسے مارنے کا اور اس کے بدلے انہیں باکردار اور محبت و اطاعت کرنے والی اولاد دینے کا فیصلہ فرمایا۔ گرتی ہوئی دیوار اس لیے تعمیر کی کیونکہ وہ دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی، ان کے والد اللّٰه کے نیک بندے تھے، دیوار کے نیچے خزانہ پوشیدہ تھا، اگر وہ دیوار گر جاتی تو لوگ خزانہ لوٹ لیتے اور نیک باپ کے یہ دو یتیم بچے اس سے محروم ہوجاتے، ہم نے اس دیوار کو تعمیر کردیا تاکہ جوان ہونے کے بعد وہ اس خزانے کو نکال کر اپنے کام میں لاسکیں۔
۲۔ *ذوالقرنین کا قصہ:*
یہ بڑا زبردست وسائل والا بادشاہ تھا، اس کا گزر ایک قوم پر ہو جو ایک دوسری وحشی قوم کے ظلم کا نشانہ بنی ہوئی تھی، جسے قرآن نے ”یاجوج“ اور ”ماجوج“ کا نام دیا ہے۔ ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج پر دیوار چن دی، اب وہ قربِ قیامت میں ہی ظاہر ہوں گے۔
(۲) *سورۂ مریم میں تقریبا گیارہ انبیائے کرام علیہم السلام کا تذکرہ ہے:*
تین انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر قدرے تفصیلی ہے:
۱۔ حضرت یحی علیہ السلام کی ولادت (اللّٰه تعالیٰ نے زکریا علیہ السلام اور ان کی اہلیہ کو بڑھاپے میں بیٹا عطا فرمایا جسے نبوت سے بھی سرفراز فرمایا)
۲۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت (اللّٰه تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور انہیں بچپن میں ہی گویائی عطا فرمادی)
۳۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد کو دعوت (شرک نہ کریں، اللہ نے مجھے علم دیا ہے میری بات مان لیں، شیطان کی بات نہ مانیں، وہ اللہ کا نافرمان ہے ، اس کے مانیں گے تو اللہ کا عذاب آئے گا۔)
باقی آٹھ انبیائے کرام علیہم السلام کا یا تو بہت مختصر ذکر ہے یا صرف نام آیا ہے:
۴۔حضرت موسیٰ علیہ السلام
۵۔حضرت ہارون علیہ السلام
۶۔حضرت اسماعیل علیہ السلام
۷۔حضرت اسحاق علیہ السلام
۸۔حضرت یعقوب علیہ السلام
۹۔حضرت ادریس علیہ السلام
۱۰۔حضرت آدم علیہ السلام
۱۱۔حضرت نوح علیہ السلام
(۳) *سورۂ طٰہٰ میں تین باتیں یہ ہیں:*
۱۔ تسلی رسول
۲۔ حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ
۳۔ حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ
۱۔ *تسلی رسول:*
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تلاوت اور دعوت دونوں میں بے پناہ مشقت اٹھاتے تھے، راتوں کو نماز میں اتنی طویل قراءت فرماتے کہ پاؤں مبارک میں ورم آجاتا اور پھر انسانوں تک قرآن کے ابلاغ اور دعوت میں بھی اپنی جان جوکھوں میں ڈالتے تھے اور جب کوئی اس دعوت پر کان نہ دھرتا تو آپ کو بے پناہ غم ہوتا ، اسی لیے ربّ کریم نے کئی مقامات پر آپ کو تسلی دی ہے، یہاں بھی یہی سمجھایا گیا کہ آپ اپنے آپ کو زیادہ مشقت میں نہ ڈالیں، اس قرآن سے ہر کسی کا دل متاثر نہیں ہوسکتا ، یہ تو صرف اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو دل میں اللّٰه کا خوف رکھتا ہو۔
۲۔ *حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ:*
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جو حالات اس سورت میں بیان کیے گئے ہیں ان کو ذہن نشین کرنے کے لیے چند عنوانات قائم کیے جاسکتے ہیں، یعنی باری تعالیٰ کے ساتھ شرفِ ہم کلامی دریا میں ڈالا جانا، تابوت کا فرعون کو ملنا، پوری عزت اور احترام کے ساتھ رضاعت کے لیے لیے حقیقی والدہ کی طرف آپ کو لوٹا دینا، آپ سے ایک قبطی کا قتل ہونا لیکن اللّٰه کا آپ کو قصاص سے نجات دلانا، آپ کا کئی سال مدین میں رہنا، اللّٰه کی طرف سے آپ کو اور آپ کے بھائی حضرت ہارون علیہما السلام کو فرعون کے پاس جانے کا حکم، فرعون کے ساتھ موعظہ حسنہ کے اصول کے تحت مباحثہ، اس کا مقابلے کے لیے جادوگروں کو جمع کرنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فتح، ساحروں کا قبولِ ایمان، راتوں رات بنی اسرائیل کا اللّٰه کے نبی کی قیادت میں مصر سے خروج، فرعون کا مع لاؤ لشکر تعاقب اور ہلاکت ، اللّٰه کی نعمتوں کے مقابلے میں بنی اسرائیل کا ناشکراپن ، سامری کا بچھڑا بنانا اور اسرائیلیوں کی ضلالت، تورات لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طور سے واپسی اور اپنے بھائی پر غصے کا اظہار ، حضرت ہارون علیہ السلام کا وضاحت کرنا وغیرہ۔
۳۔ *حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ:*
اللّٰه تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرماکر مسجودِ ملائک بنایا، سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر شیطان نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا، اللّٰه تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا اب یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ، جنت میں رہو یہاں آرام ہی آرام ہے نہ تم بھوکے ہوتے ہو نہ ننگے، نہ پیاسے ہوتے ہو نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاتے ہو بس فلاں درخت کے قریب نہ جانا، مگر شیطان نے وسوسہ پیدا کیا، حضرت آدم و حواء علیہما السلام نے شجرِ ممنوع میں سے کچھ کھالیا ، اللّٰه نے انہیں جنت میں سے نکال دیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اللّٰه نے انھیں معاف فرمایا دیا۔
*Summary Quran Para 16*
*`خلاصہ قرآن پارہ ١٦:`*
سولھویں پارے کے آغاز میں سورہ الکہف تقریبًا تین رکوع ہیں. پندرھویں پارے کا اختتام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کے ذکر پر ہوا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام , حضرت خضر علیہ السلام کے کشتی میں سوراخ کرنے کے بعد ایک خوبصورت بچے کے قتل کرنے پر بھی بالکل مطمئن نہ تھے اس لیے اس پر بھی اعتراض کیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ کیا میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اب اگر میں نے کوئی سوال کیا تو آپ مجھے علیحدہ کر دیجیے گا۔
اب پھر دونوں اکٹھے آگے چلے اور ایک بستی میں جا پہنچے۔ بستی کے لوگ بڑے بے مروت تھے۔ انھوں نے دو معزز مہمانوں کی کوئی خاطر تواضع نہ کی۔ اس بستی میں ایک جگہ ایک دیوار گر چکی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی حضرت خضر علیہ السلام نے اس کی تعمیر شروع کر دی۔ دیوار مکمل ہوگئی تو حضرت خضر علیہ السلام نے وہاں سے چلنے کا ارادہ کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اگر آپ چاہتے تو اس کام کا معاوضہ بھی وصول کر سکتے تھے۔ سوال سنتے ہی حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت آپہنچا ہے۔ جدا ہونے سے قبل میں آپ کو اپنے تمام کاموں کی توجیہات پیش کرنا چاہتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔ کشتی میں سوراخ کرنے کا سبب یہ تھا کہ جس ساحل پر جا کر کشتی رکی تھی وہاں پر ایک غاصب بادشاہ کی حکومت تھی جو ہر بے عیب کشتی پر جبری قبضہ کیے جا رہا تھا۔ میں نے کشتی میں سوراخ کر دیا تاکہ کشتی کے مسکین مالک بادشاہ کے ظلم سے بچ جائیں۔ جس خوبصورت بچے کو میں نے قتل کیا وہ بڑا ہو کر اپنے والدین کے ایمان کے لیے خطرہ بننے والا تھا، اس کی موت کے بعد اللہ تعالی اس کے بدلے اس کے والدین کو ایک صالح بچہ عطا فرمانے والے ہیں۔ تعمیر کی جانے والی دیوار ایک ایسے گھر کی تھی جو بستی کے دو یتیم بچوں کی ملکیت تھا جن کا باپ نیک آدمی تھا اور ان کے گھر کے نیچے خزانہ دفن تھا۔ اللہ چاہتا تھا کہ بچے جوان ہو کر اپنے خزانے کو نکال لیں اور یہ ابھی کسی کے ہاتھ نہ لگے۔ جو کچھ بھی میں نے کیا اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم پر کیا۔
یہ واقعہ علمِ لدنی کی حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ کامل علم رب کے پاس ہے اور وہ جتنا علم کسی کو دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ دنیا میں جس جس آدمی پر جو مصیبت آتی ہے اس میں اللہ کی کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے لہٰذا انسان کو اس کی رضا میں راضی رہنا چاہیے اور صبر و شکر اختیار کرنا چاہیے.
اس کے بعد اللہ رب العزت نے حضرت ذوالقرنین کا قصہ ذکر فرمایا ہے جو وسیع و عریض سلطنت کا مالک تھا. وہ ایک بستی کے پاس سے گزرا تو بستی والوں نے درخواست کی کہ سامنے پہاڑوں کے درمیان سے ایک مخلوق جسے قرآن نے یاجوج ماجوج سے تعبیر کیا ہے، اترتی ہے اور ہمارے کھیتوں کو تہس نہس کر دیتی ہے. لہٰذا ہمارے بچاؤ کی کوئی صورت کیجیے.حضرت ذوالقرنین نے اپنی فوج کے ساتھ مل کر پہاڑی درے کو سیسے سے بھر دیا جس سے یاجوج ماجوج کا راستہ بند ہو گیا. لیکن قرب قیامت میں یہ دیوار گر جائے گی اور یاجوج ماجوج پھر تباہی پھیلائیں گے.
سورہ کہف کے آخر میں اللہ تعالی نے اپنی توانائیوں کو محض دنیاوی زیب و زینت پر صرف کرنے والوں کے اعمال کو بدترین اعمال قرار دیا ہے جب کہ وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بہترین کاموں میں مشغول ہیں۔ اللہ کہتا ہے کہ ایسے لوگ میری ملاقات اور نشانیوں کا انکار کرنے والے ہیں اور ایسے لوگوں کے اعمال برباد ہو جائیں گے.
سورہ کہف کے بعد سورہ مریم ہے۔ اس میں اللہ تعالی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزاتی پیدائش کا ذکر کیا ہے۔ جنابِ زکریاعلیہ السلام جنابِ مریم کے کفیل اور خالو تھے۔ ان کی عمر زیادہ ہونے کے سبب ان پر شیخوخت (بڑھاپا) آ چکی تھی اور ان کی اہلیہ بھی کہولت (آدھیڑعمری)زدہ تھیں. جب انھوں نے سیدہ مریم سلام اللہ علیہا کے پاس بے موسمی پھل دیکھے تو سوچا کہ جو اللہ بے موسمے پھل دے سکتا ہے وہ اسباب کے بغیر اولاد بھی دے سکتا ہے لہٰذا انھوں نے اللہ سے دعا مانگی کہ اے پروردگار تو مجھے بھی صالح اولاد عطا فرما۔ اللہ نے جنابِ زکریا علیہ السلام کی فریاد کو سن کر انھیں بڑھاپے میں جنابِ یحییٰ علیہ السلام سے نواز دیا۔
اسی طرح جنابِ مریم کے پاس جبریل علیہ السلام آتے ہیں اور ان کو ایک صالح بیٹے کی بشارت دیتے ہیں۔ آپ کہتی ہیں کہ کیا میرے ہاں بیٹا پیدا ہوگا جب کہ میں نے تو کسی مرد سے نزدیکی نہیں کی۔ جبریل علیہ السلام کہتے ہیں کہ جب اللہ کسی کام کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا۔ وہ کُن کہتا ہے تو چیزیں رونما ہو جاتی ہیں۔ جب عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو سیدہ مریم لوگوں کے طعن و تشنیع کے خوف سے بے قرار ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالی ان کے دل کو مضبوط فرماتے ہیں اور ان کو حکم دیتے ہیں کہ جب آپ کی ملاقات کسی انسان سے ہو تو آپ کو کہنا ہے کہ میں نے رحمٰن کے لیے روزہ رکھا ہوا ہے اس لیے میں کسی کے ساتھ کلام نہیں کروں گی۔جب آپ بستی میں داخل ہوتی ہیں تو بستی کے لوگ آپ کی جھولی میں بچے کو دیکھ کر کہتے ہیں اے ہارون کی بہن، اے عمران کی بیٹی، نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں نے خیانت کی۔ تم نے یہ کیا کر دیا۔ جنابِ عیسیٰ علیہ السلام نے مریم کی گود سے آواز دی: میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ گود میں لیٹے ہوئے بچے کی آواز سن کر لوگ خاموش ہو جاتے ہیں.
سورۃ مریم کی آخری آیات میں اللہ نے آپس میں محبت پیدا کرنے کا نسخہ ایمان اور عملِ صالح کو قرار دیا ہے۔
سورہ مریم کے بعد سورہ طہٰ ہے۔ ابتدائی آیات میں اللہ تعالٰی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی لوگوں کی اسلام سے دوری پر بے چینی کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ آپ پریشان نہ ہوں. یہ کتاب یعنی قرآنِ مجید ہم نے اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ اس کی وجہ سے تکلیف اٹھائیں. یہ کتاب تو اسے ہی نصیحت کرے گی جو اللہ کا خوف رکھے گا.
سورہ طہٰ میں اللہ تعالی نے جنابِ موسیٰ علیہ السلام کی کوہِ طور پر اپنے ساتھ ہونے والی ملاقات کو ذکر کیا اور بتایا کہ جب موسیٰ علیہ السلام طور پر تشریف لائے تو اللہ تعالی نے ان سے پوچھا کہ موسیٰ علیہ السلام آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ جنابِ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ یہ میری لاٹھی ہے اور میں اس سے پتے جھاڑتا ہوں اور سہارا لیتا ہوں۔ اللہ نے ان کو لاٹھی زمین پر گرانے کا حکم دیا، جو گرتے ہی اژدھا کی شکل اختیار کر گئی جسے دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام خوف زدہ ہوگئے۔ اللہ نے اب اژدھے کو اٹھانے کا حکم دیا جو ان کے ہاتھ میں آتے ہی لاٹھی کی صورت اختیار کر گیا۔
اس واقعہ سے موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے ساری دنیا کو بتایا گیا کہ کسی بھی چیز کے اندر نفع یا نقصان اس کا ذاتی خاصہ نہیں ہے بلکہ خدا قادرِ مطلق ہے جو نفع والی چیز کو نقصان اور نقصان دینے والی چیز کو نفع دینے والی چیز میں بدل سکتا ہے۔
اس کے بعد اللہ نے جنابِ موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے سامنے جاکر نرم گفتاری سے تبلیغ کرنے کا حکم دیا۔ اس موقع پر موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار میرے سینے کو کھول دے، میرے معاملے کو آسان کر دے، میری زبان سے گرہ کو دور کر دے تاکہ لوگ میری بات کو صحیح طرح سمجھ سکیں اور میرے اہلِ خانہ میں سے میرے بھائی ہارون علیہ السلام کو میرا وزیر بنا دے۔ اللہ نے جنابِ موسیٰ علیہ السلام کی دعا کو قبول کیا۔ دونوں بھائی فرعون کے دربار میں آئے۔ فرعون نے اپنی قوم کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آپ سے سوال کیا کہ میری قوم کے لوگ جو ہم سے پہلے مر چکے ہیں آپ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ جنابِ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ان کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے اور میرا پروردگار نہ کبھی بھولا ہے اور نہ کبھی گمراہ ہوا ہے۔ آخر الامر اللہ نے فرعون کو تباہ و برباد کر دیا اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔
اس کے بعد اللہ نے جنابِ موسیٰ علیہ السلام کو اپنی ملاقات کے لیے بلایا۔ جب موسیٰ علیہ السلام اللہ سے ہم کلام ہو رہے تھے تو قومِ موسیٰ نے ان کی عدم موجودگی میں سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی۔ موسیٰ علیہ السلام جب واپس ہوئے تو اپنی قوم کو شرک کی دلدل میں اترا دیکھ کر غضبناک ہوئے اور جنابِ ہارون علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ نے اپنی ذمہ داری کیوں ادا نہیں کی۔ جنابِ ہارون علیہ السلام نے کہا کہ میں نے ان پر سختی اس لیے نہیں کی کہ یہ لوگ کہیں منتشر نہ ہو جائیں۔ جنابِ موسیٰ علیہ السلام کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو انھوں نے سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کو آگ لگاکر اس کی راکھ کو سمندر میں بہا دیا اور اس جھوٹے معبود کی بے بسی، ناکارگی اور ناطاقتی کو بنی اسرائیل پر ثابت کر دیا۔
اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمان سے مینہ برسایا جس کے نتیجے میں کھیتوں نے غلہ اگایا جس سے انسان اور جانور فائدے حاصل کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ عقل والے لوگ ان انعامات میں کھو کر اپنی حقیقت کو نہیں بھولتے. وہ ہر وقت یاد رکھتے ہیں کہ اللہ نے ان کی اس مٹی سے پرورش کی ہے اور آئندہ اسی مٹی میں وہ ڈالے جائیں گے اور روزِ قیامت اسی مٹی سے ان کا بدن اٹھایا جائے گا. اس لیے وہ اللہ تعالٰی کے انعامات کو آخرت کی تیاری کے لیے استعمال میں لاتے ہیں.
سورہ طہٰ کے آخر میں اللہ تعالٰی نے قرآن مجید سے اعراض کرنے والوں کو تنبیہہ فرمائی ہے. جو لوگ قرآن مجید کی تعلیمات پر توجہ نہیں دیتے ان کی زندگی تنگ ہو جائے گی اور روز قیامت اندھے بنا کر پیش کیے جائیں گے. آخر میں اللہ تعالٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہیں کہ ان معاندین سے کہہ دیجیے کہ میں بھی منتظر ہوں اور تم بھی انتظار کرو، جلد اللہ تعالٰی فیصلہ فرما دیں گے کہ کون سیدھے راستے پر گامزن ہے.
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ مجید میں مذکور واقعات کو سمجھنے اور ان سے روشنی لیتے ہوئے زندگی کو گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Comments
Post a Comment