Ramzan Mubarak Taqwa k hasool ka zariya - Ramzan al mubarak Aur Tqawa -رمضان المبارک تقویٰ کے حصول کا ذریعہ

رمضان المبارک تقویٰ کے حصول کا ذریعہ

اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کو رمضان المبارک کا اصل مقصد قرار دیا ہے، چنانچہ سورۃ البقرہ میں ارشاد ہوتا ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ"

(البقرہ: 183)

ترجمہ: "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، *تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو* ۔"

گویا رمضان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بندہ متقی بن جائے۔ اور نبی کریم ﷺ نے بھی اس حقیقت کو واضح فرمایا: 

"مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ"

(صحیح البخاری: 1903)

"جو شخص رمضان میں جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانے پینے سے کوئی غرض نہیں۔

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ رمضان میں محض بھوکا پیاسا رہنا مقصود نہیں، بلکہ حقیقی تقویٰ اختیار کرنا اصل ہدف ہے۔

چنانچہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "احیاء العلوم الدین" میں فرماتے ہیں:

" *روزے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اخلاقِ الہٰیہ میں سے ایک خُلق کا پرتو اپنے اندر پیدا کرے، جس کو 'صمدیت' کہتے ہیں، یعنی وہ امکانی حد تک فرشتوں کی تقلید کرتے ہوئے خواہشات سے دست کش ہو جائے۔* "

مزید فرماتے ہیں:

" *روزے کا اصل مقصد صرف کھانے پینے سے رکنا نہیں، بلکہ تمام گناہوں سے رکنا اور اپنے نفس کی تربیت کرنا ہے، تاکہ بندہ تقویٰ کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو۔* "


امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ "زاد المعاد" میں لکھتے ہیں:

 *"روزہ ظاہری اعضا اور باطنی قوتوں کی حفاظت میں بہت مؤثر ہے۔ اس سے فاسد مادے خارج ہوتے ہیں، نفس میں اصلاح پیدا ہوتی ہے، اور تقویٰ اختیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔* "

آگے لکھتے ہیں:

 " *روزہ صبر کی بہترین مشق ہے، اور صبر ایمان کا نصف ہے۔ یہی صبر انسان کو تقویٰ کے اعلیٰ مقام تک پہنچاتا ہے، جو روزے کی اصل غایت ہے۔* 


محترم قارئین کرام! 

رمضان المبارک کا مہینہ محض عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک عملی تربیت ہے جو بندے کو تقویٰ کے اعلیٰ مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ اس مبارک مہینے میں اللہ تعالیٰ ہمیں موقع دیتے ہیں کہ ہم اپنے گناہوں کی معافی طلب کرکے اپنی اصلاح کرسکیں اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی زندگی کو بدلنے کی کوشش کریں۔ لیکن یہ تبدیلی تبھی بامقصد ہوگی جب ہم رمضان کو اس کی اصل روح کے ساتھ گزاریں اور اس کے حقیقی مقصد "تقویٰ" کو اختیار کریں۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر اپنا محاسبہ کریں کہ آیا ہم تقویٰ کی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ کیا ہمارے دل میں خدا کا خوف اور نیکی کی رغبت پیدا ہو رہی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ جس نے تقویٰ کی دولت حاصل کر لی، اسی کا رمضان کامیاب ہوا اور اسی نے اسکی مقصدیت کو سمجھا۔ کیونکہ یہی وہ صفت ہے جو بندے کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے، اور یہی وہ جوہر ہے جو دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کے حقیقی مقصد کو سمجھنے، تقویٰ اختیار کرنے، اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

Comments

Popular posts from this blog

What remain after death جب انسان مر جائے تو کیا باقی رہتا ہے ?*

Khulasa e Quran - para number 30 - 🕋 پارہ نمبر 30 خلاصہ قرآن

Khulasa e Quran - para number 29 - 🕋 پارہ نمبر 29 خلاصہ قرآن