Summary of Quran parah 11 - خلاصۃ القرآن گیارھواں پارہ

*🌹مختصر خلاصتہ القرآن🌹* 

*گیارھواں پارہ*

 اس پارہ کے 16 رکوع ہیں

 *اس پارے میں دو حصے ہیں:* 

۱۔ سورۂ توبہ کا بقیہ حصہ 5 رکوع

۲۔ سورۂ یونس مکمل 11 رکوع اور ابتدائی چند آیات سورت ھود کی ہیں


(۱) *سورۂ توبہ کے بقیہ حصے میں تین باتیں یہ ہیں:* 

۱۔ منافقین کی مذمت

۲۔ مومنین کی نو صفات

۳۔ غزوۂ تبوک میں شرکت نہ کرنے والے تین مخلص صحابہ


۱۔ *منافقین کی مذمت:* 

اللہ تعالیٰ نے غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہونے کے بارے میں منافقین کے جھوٹے اعذار کی اپنے نبی کو خبر دے دی، نیز منافقین نے مسلمانوں کو تنگ کرنے کے لیے مسجد ضرار بنائی تھی، اللّٰه تعالیٰ نے نبی کو اس میں کھڑا ہونے سے منع فرمایا، نبی علیہ السلام کے حکم سے اس مسجد کو جلا دیا گیا۔


۲۔ *مومنین کی نو صفات:* 

(۱)توبہ کرنے والے 

(۲)عبادت کرنے والے 

(۳)حمد کرنے والے 

(۴)روزہ رکھنے والے 

(۵)رکوع کرنے والے 

(۶)سجدہ کرنے والے 

(۷)نیک کاموں کا حکم کرنے والے

(۸)بری باتوں سے منع کرنے والے 

(۹) اللّٰه کی حدود کی حفاظت کرنے والے


۳۔ *غزوۂ تبوک میں شرکت نہ کرنے والے تین مخلص صحابہ:* 

(۱)حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ 

(۲)حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ 

(۳)حضرت مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ

ان تینوں سے پچاس دن کا بائکاٹ کیا گیا، پھر ان کی توبہ کی قبولیت کا اعلان وحی کے ذریعے کیا گیا۔


(۲) *سورۂ یونس میں چار باتیں یہ ہیں:* 

۱۔ *توحید* (رازق ، مالک ، خالق اور ہر قسم کی تدبیر کرنے والا اللہ ہی ہے۔آیت:۳۱)

۲۔ *رسالت* (اور اس کے ضمن میں حضرت نوح ، حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون اور حضرت یونس علیہم السلام کے قصے مذکور ہیں)

۳۔ *قیامت* (روز قیامت سب کو جمع کیا جائے گا۔آیت:۴ ، کفار کو اس کا یقین نہیں۔ آیت:۱۱)

۴۔ *قرآن کی عظمت* (یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیات ہیں۔ آیت:۱)


 *حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ:* 

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت دی، انھوں نے بات نہیں مانی، سوائے کچھ لوگوں کے، اللّٰه تعالیٰ نے ماننے والوں کو نوح علیہ السلام کی کشتی میں محفوظ رکھا اور باقی سب کو جوکہ نافرمان تھے پانی میں غرق کردیا۔


 *حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا قصہ:* 

حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو اللّٰه تعالیٰ نے فرعون کی طرف بھیجا، فرعون اور اس کے سرداروں نے بات نہ مانی، بلکہ فرعون نے خدائی کا دعوی کیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر بتلایا اور ان کے مقابلے میں اپنے جادوگروں کو لے آیا، جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو حکم دیا کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر اور مسجدیں بنائیں اور مسجدوں میں سب نماز ادا کریں، فرعون اور اس کے ماننے والے بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے سمندر میں غرق ہوگئے، بنی اسرائیل کے لیے اللّٰه نے سمندر میں راستے بنادیے۔


 *حضرت یونس علیہ السلام:* 

انھی کے نام پر اس سورت کا نام ”سورۂ یونس“ رکھا گیا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کا نام قرآن میں چار جگہ(سورۂ نساء ، انعام ، یونس اور صافات میں) صراحۃً یونس آیا ہے اور دو جگہ(سورۂ یونس اور سورۂ قلم میں) اللّٰه نے ان کا ذکر مچھلی والا (صاحب الحوت / ذا النون) کی صفت کے ساتھ فرمایا ہے۔

 *حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے کے دو رخ ہیں:* 

ایک ان کا مچھلی کے پیٹ میں جانا، اس کا تفصیلی ذکر سورۂ صافات میں ہے۔

دوسرا ان کی قوم کا ان کی غیر موجودگی میں توبہ استغفار کرنا، سورۂ یونس میں اس طرف اشارہ ہے۔

 *قصہ:* 

حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کے ایمان سے مایوس اور اللّٰه کا عذاب آنے کو یقینی دیکھ کر ”نینوی“ کی سر زمین چھوڑ کر چلے گئے، آگے جانے کے لیے جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو سمندر میں طغیانی کی وجہ سے کشتی ڈوبنے لگی، حضرت یونس علیہ السلام نے سمندر میں چھلانگ لگادی، ایک بڑی مچھلی نے انھیں نگل لیا، اللّٰه نے انھیں مچھلی کے پیٹ میں بھی بالکل صحیح و سالم زندہ رکھا، چند روز بعد مچھلی نے انھیں ساحل پر اگل دیا، ادھر یہ ہوا کہ ان کی قوم کے مرد اور عورتیں، بچے اور بڑے سب صحرا میں نکل گئے اور انھوں نے آہ و زاری اور توبہ و استغفار شروع کردیا اور سچے دل سے ایمان قبول کرلیا، جس کی وجہ سے اللّٰه کا عذاب ان سے ٹل گیا۔


*Summary Quran Para 11* 

 *`خلاصہ قرآن پارہ ١١:`* 


گیارھویں پارے کا آغاز سورۃ توبہ کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اللہ نے مہاجر اور انصار میں سے ایمان میں سبقت لے جانے والے صحابہ کا ذکر کیا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے اپنی جنتوں کو تیار کر دیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور یہ بہت بڑا اجر ہے۔


اس کے بعد اللہ نے اس خوفناک حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ مدینہ میں رہنے والے بہت سے لوگ منافق ہیں۔ اگرچہ نبی کریم ﷺ ان کو نہیں جانتے مگر اللہ ان سے اچھی طرح واقف ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کو عام لوگوں کے مقابلے میں دو گنا عذاب دوں گا۔ پھر اللہ نے ان منافقین کا ذکر کیا ہے جو بغیر کسی سبب کے جنگِ تبوک میں شریک نہ ہوئے۔ ان منافقوں کے ذہن میں یہ بدگمانی موجود تھی کہ مسلمان تبوک کے محاذ پر شکست سے دوچار ہوں گے۔ اللہ نے اہلِ ایمان کی مدد فرمائی اور اپنے خاص فضل سے ان کو فتح یاب فرما دیا۔ اللہ نے اپنے نبیﷺ کو پیشگی اطلاع دی کہ آپ ان کے پاس پہنچیں گے تو وہ آپﷺ کے سامنے عذر پیش کریں گے۔ ارشاد ہوا کہ آپ انھیں کہیں کہ بہانے نہ بناؤ، ہم تم پر یقین نہیں کریں گے۔ اللہ نے تمھاری خبریں ہمیں پہنچا دی ہیں اور آئندہ بھی اللہ اور اس کا رسولﷺ تمھاری حرکتوں پر نظر رکھیں گے۔ پھر تم اس ذات کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو حاضر اور غائب سب کا جاننے والا ہے تو وہ تمھیں تمھارے اعمال کی اصلیت سے آگاہ کرے گا۔


ارشاد ہے کہ ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اس غرض سے مسجد بنائی کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنین میں تفرقہ ڈالیں۔ ارشاد ہے کہ تم اس مسجد میں جاکر کبھی کھڑے بھی نہ ہونا البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہو وہ اس قابل ہے کہ اس میں جایا کرو۔


نیز ارشاد ہے کہ نیکی کرنے والوں نے اگر اللہ کی راہ میں کوئی چھوٹی بڑی رقم خرچ کی یا کسی وادی کو طے کیا تو اس عمل کو ان کے نامہ اعمال میں لکھ دیا گیا ہے تاکہ اللہ ان کے کاموں کا اچھا بدلہ عطا فرمائے۔


غزوہ تبوک کے موقع پر صحابہ سے مالی تعاون کے تقاضے اور ان کے چندہ دینے کے بارے میں اللہ فرماتا ہے کہ بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کے بدلے جنت کا سودا کر لیا ہے۔ وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، اللہ کے دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور خود بھی اللہ کے راستے میں قتل ہوتے ہیں۔ اللہ نے اس تجارت کو انتہائی فائدہ مند تجارت قرار دیا۔


اللہ نے صحابہ کے بعض امتیازی اوصاف کا بھی ذکر کیا ہے کہ صحابہ کرام توبہ کرنے والے، اللہ کی عبادت کرنے والے، اللہ کی حمد کرنے والے، زمین میں پھرنے والے، اللہ کے سامنے جھکنے والے، اس کے سامنے سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے تھے، اور ایسے ہی مومنوں کے لیے خوشخبری ہے۔


اس سورت میں اللہ نے دینی علم کو فرضِ کفایہ قرار دیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ تمام مومنوں کے لیے ضروری نہیں کہ اپنے آپ کو دینی تعلیم کے لیے وقف کریں بلکہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر گروہ میں سے کچھ لوگ اپنے آپ کو دینی تعلیم کے لیے وقف کریں تاکہ جب اپنی قوم کی طرف پلٹیں تو ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرا سکیں۔


سورت توبہ کے آخر میں اللہ نے اپنے نبیﷺ کی صفات کا ذکر کیا ہے کہ تم میں سے ایک رسولﷺ تمھارے پاس آیا جو کہ کافروں پر زبردست ہے، مسلمانوں پر لالچ رکھتا ہے کہ وہ جنت میں چلے جائیں اور مومنوں پر رحم کرنے والا ہے۔ پس اگر وہ رسولﷺ کی ذات اور ان کے پیغام سے روگردانی کریں تو رسولﷺ اعلان فرما دے کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس پر میرا بھروسہ ہے اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔


سورۃ توبہ کے بعد سورۃ یونس ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ کیا انسانوں کے تعجب کی بات ہے کہ انہی میں سے ایک مرد پر وحی نازل کی جائے جو اس کے ذریعے ان کو ڈرائے۔ ارشاد ہوا کہ اللہ نے سورج اور چاند کو روشنی عطا کی اور چاند کی منازل کو بھی طے کیا تاکہ تم اس کے ذریعے سال اور مہینوں کا حساب لگاؤ۔ ارشاد ہے کہ بےشک زمین اور آسمان کی تخلیق اور رات اور دن کے آنے جانے میں اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔


ارشاد ہے کہ اے لوگو! تم تک تمھارے رب کی نصیحت آ پہنچی ہے جو شفا ہے سینے کی بیماریوں کے لیے اور رحمت ہے اہلِ ایمان کے لیے۔ اے نبی، آپ اعلان فرمائیے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے اہلِ ایمان کو خوش ہو جانا چاہیے اور یہ قرآن ہر اس چیز سے بہتر ہے جسے تم اکٹھا کرتے ہو۔ مزید ارشاد ہے کہ خبردار رہو کہ اللہ کے دوستوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم، اور ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ ایمان والے اور تقویٰ اختیار کرنے والے ہوں گے۔


اس کے بعد اللہ نے فرعون کا ذکر کیا ہے کہ اس کے خوف کی وجہ سے بنی اسرائیل کے لوگ ایمان لانے سے کتراتے تھے۔ بنی اسرائیل کی مرعوبیت دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا مانگی کہ اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے مصاحبوں کو دنیا کی زینت اور مال عطا کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو تیرے راستے سے برگشتہ کرے۔ اے مالک، تو ان کے مال و دولت کو نیست و نابود فرما اور ان کے دلوں کو سخت بنا تاکہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔


حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے لوگوں کو لے کر نکلے تو فرعون نے اپنے لشکر سمیت ان کا تعاقب کیا۔ موسیٰ علیہ السلام دریا پار کر گئے تو اللہ نے اس کی لہروں کو آپس میں ملا دیا۔ فرعون دریا کے وسط میں غوطے کھانے لگا۔ اس حالت میں فرعون نے پکار کر کہا کہ میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں اس کے سوا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ اللہ نے فرعون کا ایمان قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ کیا اب ایمان لائے ہو؟ اس سے پہلے تک تو تو نافرمانی اور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ پس آج ہم تیرے جسم کو دریا سے نکال لیں گے تاکہ تو اپنے بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے نصیحت بنے۔


اس سورت میں قومِ یونس کا بھی ذکر ہے کہ جب حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کی نافرمانیوں پر ناراض ہوکر ان کو خیرباد کہہ دیتے ہیں تو وہ اللہ سے باجماعت اپنے گناہوں پر معافی مانگ لیتے ہیں۔ اللہ ان کی اجتماعی توبہ اور استغفار کی وجہ سے ان کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔


سورت یونس کے آخر میں ارشاد ہے کہ تم سب یکسو ہوکر دینِ اسلام کی پیروی کیے جاؤ اور مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہونا۔ اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو تمھارا نہ بھلا کر سکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ ارشاد ہے کہ اے نبیﷺ، جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کیے جائیے اور تکلیفوں پر صبر کیجیے یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے۔ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔


اس کے بعد سورت ہود شروع ہوتی ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں۔ ارشاد ہے کہ تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔


اللہ ہمیں قرآن مجید پڑ ھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Comments

Popular posts from this blog

What remain after death جب انسان مر جائے تو کیا باقی رہتا ہے ?*

Khulasa e Quran Para 6 - خلاصہ قرآن پارہ 6

Khulasa e Quran - para number 30 - 🕋 پارہ نمبر 30 خلاصہ قرآن