Khulasa e Quran - para number 16 - 🕋 پارہ نمبر 16 خلاصہ قرآن



 خلاصہ مضامين قرآن 📝 اہم نکات

🕋 پارہ نمبر 16 

✏️ *قصہ ذوالقرنین:* 

حضرت ذوالقرنین نے مشرق و مغرب کے علاقوں کو فتح کیا اور اسلامی حکومت قائم کی غرض پوری دنیا کی حکمرانی اللہ نے عطا کی،مگر اس کے باوجود بھی اللہ کی یاد سے غافل نہ ہوئے-(الکھف:83)

✏️ *سورۂ مریم میں آداب دعا:* 

وہ آداب جن کو حضرت زکریاعلیہ السلام نے ملحوظ رکھا درج ذیل ہیں:

(۱): آہستہ آواز سے پکارا- (مریم:3)

(۲): اپنی بے بسی اور کمزوری کا اظہار کیا-(مریم:4)

(۳): اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوئے-(مریم:5)

(۴): اولاد کو خدمتِ دین پر مامور کرنے کا عزم کیا-(مریم:6)

✏️ *دعا کا شرف قبولیت:* 

اللہ نے فقید المثال بیٹے کی بشارت دی جو ان صفات کا حامل تھا:

(۱): نام اللہ نے خود رکھا-(مریم:7)

(۲): بچپن ہی سے نبوت عطاءکی گئی-

(۳): انتہائی نرم دل

(۴): انتہائی پاکباز 

(۵): تقوی دار

(۶): والدین کا فرمانبردار 

(۷): پیدائش سے لے کر موت تک سلامتی والا

(۸): قیامت کے دن بھی سلامتی ہو گی-(مریم:12-15)

اس واقعہ میں بڑا سبق یہ ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کی طرح آداب کی رعایت رکھتے ہوئے دعا مانگو، اللہ ایسا ہی نیک فرمانبردار بیٹا عطا فرمائے گا-

✏️ *سورۃ طہٰ نزول قرآن کا مقصد:* 

قرآن کے نزول کا مقصد نصیحت ہے اور یہ اس اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا اور وہ ظاہری پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے،نیز حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور معجزوں کا بیان ہے- (طہٰ:1-23)


📝 *اہم نکات*

⭐ *حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا* : 

سورۃ طٰہٰ آیت 25 سے 28 تک یاد کیجیۓ:

قَالَ *رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ* (طٰہٰ:25)

"(موسیٰ علیہ السلام نے) عرض کی: اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے ۔"

 *وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ* (طٰہٰ:26)

"اور میرے لیے میرا کام آسان فرما دے۔"

 *وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ* (طٰہٰ:27)

"اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔"

 *يَفْقَهُوا قَوْلِي* (طه: 28)

"تاکہ وہ بات سمجھ لیں."

⭐"ہم نےحضرت آدم علیہ السلام کو پہلے ہی تاکیدی حکم دے دیا تھا لیکن وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں کوئی (نافرمانی کا کوئی) ارادہ نہیں پایا (یہ محض ایک بھول تھی) ۔"(طٰہٰ:21)

 *نسیان ( بھول جانا)فقدان عمل (ارادے کی کمزوری) یہ دونوں کمزوریاں شیطان کے وسوسوں میں پھنس جانے کا باعث بنتی ہیں .* 

 نسیان، (بھول جانا) ہر انسان کی سرشت میں داخل ہے اور ارادے کی کمزوری یعنی فقدان عزم۔ یہ بھی انسانی خصلت میں بالعموم پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں کمزوریاں ہی شیطان کے وسوسوں میں پھنس جانے کا باعث بنتی ہیں۔ اگر ان کمزوریوں میں اللہ کے حکم سے بغاوت و سرکشی کا جذبہ اور اللہ کی نافرمانی کا عزم مصمم شامل نہ ہو، تو بھول اور ضعف ارادہ سے ہونے والی غلطی عصمت و کمال نبوت کے منافی نہیں، کیونکہ اس کے بعد انسان فوراً نادم ہو کر اللہ کی بارگاہ میں جھک جاتا اور توبہ و استفغار میں مصروف ہوجاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

What remain after death جب انسان مر جائے تو کیا باقی رہتا ہے ?*

Khulasa e Quran - para number 30 - 🕋 پارہ نمبر 30 خلاصہ قرآن

Khulasa e Quran - para number 29 - 🕋 پارہ نمبر 29 خلاصہ قرآن