Khulasa e Quran - para number 13 - 🕋 پارہ نمبر 13 خلاصہ قرآن
خلاصہ مضامين قرآن 📝 اہم نکات
🕋 پارہ نمبر 13:
✏️ *حضرت یعقوب علیہ السلام کا کمال توکل:*
اس میں برادران یوسف کی دوسری واپسی اور پریشانی کا تذکرہ ہے کہ اب جا کر اپنے والد کو کیا منہ دکھائیں گے اور کیا جواب دیں گے؟اور ساتھ ساتھ حضرت یعقوب علیہ السلام کے کمال توکل کا ذکر ہے کہ اپنے بیٹوں کی زبانی تمام واقعہ سن کر بھی فرمانے لگے کہ اللہ سے نا امید نہ ہو اور جاؤ جا کر دونوں کے احوال کی تفتیش کرو-(یوسف آیت نمبر۸۰-۸۷)
✏️ *حضرت یوسف علیہ السلام کو پہچاننا:*
اس میں برادران یوسف کی تیسری آمد کا ذکر ہے،اسی آمد میں ان سب پر یہ حقیقت کھلی کہ یہ حضرت یوسف علیہ السلام ہیں اور پھر اپنے کیے پر انتہائی نادم ہوئے،لیکن سن کی بےبسی اور ندامت کو دیکھ کر ان پر مکمل اختیار ہونے کے باوجود حضرت یوسف علیہ السلام نے *لا نثریب علیکم الیوم* ،فرمایا کہ آج کے دن کسی پر کوئی گرفت نہیں،میں نے معاف کیا-(یوسف آیت نمبر ۸۸-۹۲)
✏️ *صاحب بصیرت کون اور عقل سے محروم کون؟:*
دلائل عقلیہ اور نقیلہ سے حق اور باطل کو واضح کر لینے کے بعد اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ بینا کون ہے اور نابینا کون؟صاحب بصیرت کون ہے اور عقل سے محروم کون؟چناچہ جو لوگ اللہ تعالٰی اور انبیا علیہ السلام سے کیے گئے عہدوں کو پورا کرتے ہیں،وہی لوگ حق پر ہیں،انہی کے لئے کامیابی اور انہی کا ٹھکانا جنت ہے اور جنہوں نے اللہ کے عہدوں کو پورا نہیں کیا،ان کے لیے برا انجام اور جہنم ان کا ٹھکانا ہے-( آیت نمبر ۱۹-۲۵)
✏️ *سورۃ ابرہیم خلاصہ سورت:*
اس سورت میں گزشتہ سورتوں کے وقائع بیان کئے گئے ہیں اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے انعامات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے،ےا کہ ان کو سن کر لوگ راہ راست پر آجائیں-
✏️ *کلمہ حق اور کلمہ کفر:*
اس آیت میں دو مثالیں پیش کی گئی ہیں جن کے ضمن میں کلمہ حق کی برکتوں اور کفروشرک کی نحوست کو واضح کیا گیا ہے،چناچہ کلمہ حق کی مثال تو ایسی ہے جیسے ایک پاکیزہ درخت ہو،جس کی جڑ مضبوطی سے قائم ہے اور اور اس کی ڈالیاں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں،یعنی جس طرح جس درخت جڑیں جس قدر تہہ تک گئی ہوئی ہوں اور مضبوط ہوں،اسی قدر اس میں پھل بھی لگتا ہے اور اس کی شاخیں بلند اور ہری بری ہوتی ہے،آندھیوں کا جھکڑ اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتے،اس طرح جس شخص کا ایمان جس قدر مضبوط ہو گا،اسی قدر اس کے اعمال صالحہ آسمان کی طرف بلند ہوں گے اور اس درخت کی طرح خلق خدا کے لیے مفید ہو گا اور شیطانی وسوسوں کی طغیانی اورمصائب وشدائد اس کے پائے استقامت میں تذبذب پیدا نہیں کر سکتے اور کفروشرک کی مثال ایسی ہے جیسے ناپاک اور گندا درخت ہو،جس میں نہ افادیت ہو اور نہ استحکام اور اس کو زمین کے اوپر سے ہی اکھاڑ کے پھینک دیا جاتا ہو،اسی طرح جسکے دل میں ایمان راسخ نہ ہو،شک ونفاق اور وساوس نے گھیر رکھا ہو،اس کے بدن سی نکلنے والے اعمال بھی کوئی زیادہ مفید نہیں ہوتے اور مصائب وشدائد کے وقت ایمان بچانا مشکل ہو جاتا ہے-(ابرہیم آیت نمبر ۲۴-۲۹)
✏️ *دین امن وامان اور عشق کی دعائیں:*
"اے ہمارے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے عزت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں ٹھہرایا ہے جس میں کھیتی نہیں ہوتی۔ اے ہمارے رب ! تاکہ وہ نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور انہیں پھلوں سے رزق عطا فرماتاکہ وہ شکر گزار ہوجائیں ۔"
(ابرہیم:37)
*📝اہم نکات*
⭐ *موسیٰ علیہ السلام کی رسالت و نشانیاں:*
✨طوفان
✨ٹڈی دل
✨مینڈک
✨جوئیں
✨سسریاں
✨لہو
✨عصاء
✨ید بیضاء
✨پھلوں کے نقصانات
✨قحط
⭐ رسول ﷺ نے فرمایا جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے اس پر قحط سالی،روزگار میں تنگی،حکمرانوں کا ظلم و ستم مسلط کیا جاتا ہے.
⭐ حدیث ہے: مومن کی ہر حال میں خیر ہے وہ نعمت پر شکر اور تکلیف میں صبر کرتاہے.
⭐ مومن وہ جو آزمائش میں بھی لذت محسوس کرتا ہے.

Comments
Post a Comment