Sahaba karam razi Allah anho k Qabool e islam k waqiyat - قبولِ اسلام پر انعامات کی بارش 💚

 قبولِ اسلام پر انعامات کی بارش 💚

حضرت سیدنا ابوذر غفاری کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ایک بت کی پوجا کیا کرتے تھے اور سفر و حضر میں اسے ساتھ رکھتے۔ ایک دن وہ سفر پر روانہ ہوئے، اثنائے سفر قضائے حاجت کی ضرورت پڑی تو بت سے کہنے لگے:

"اے بت! تو میرے سامان کی حفاظت کر۔"

جب آپ جنگل میں گئے تو ایک لومڑی آئی اور اس نے بت پر پیشاب کر دیا۔ جب حضرت ابوذر غفاری واپس پلٹے تو بت کو بھیگا ہوا پایا۔ دل میں کہنے لگے: "بارش تو ہوئی نہیں، یہ کیسے بھیگ گیا؟" پھر اچانک لومڑی پر نظر پڑی تو آسمان کی طرف منہ کر کے یہ شعر پڑھنے لگے:


"أرب يبول الثعلبان برأسه

لقد ذل من بالت عليه الثعالب

فلو كان ربا كان يمنع نفسه

فلا خير في رب ناته المطالب

برأت من الأصنام في الأرض كلها

وآمنت بالله الذي هو غالب"

ترجمہ:

کیا وہ بھی خدا ہو سکتا ہے جس کے سر پر لومڑیاں پیشاب کریں؟ بیشک وہ تو ذلیل ترین ہے جس پر لومڑی، ایسا جانور، پیشاب کرے۔

اگر یہ خدا ہوتا تو اپنے آپ کو اس سے بچا لیتا۔ ایسے خدا سے خیر و بھلائی کی توقع فضول ہے جو اپنے ہی مطالب کو نہ پاسکے۔

اور میں اعلانیہ کہتا ہوں کہ تمام زمین میں جتنے بھی بت ہیں، میں ان سے بیزار ہوں اور اس اللہ تعالیٰ جل و علا پر ایمان لاتا ہوں جو ہر ایک پر غالب ہے۔


1۔عرب کے نامور قبیلوں میں سے ایک مشہور قبیلہ از رشنوءۃ ہے۔ اس قبیلے کا ایک رئیس ضماد ازدی مکہ مکرمہ میں آیا، جو مریضوں کو دم کیا کرتا تھا، خاص طور پر انہیں جنہیں آسیب یا جنات کی تکلیف ہوتی تھی۔

چند احمقوں نے اسے حضور ﷺ کے بارے میں بتایا کہ:

"انہیں آسیب کی تکلیف ہے، وہ بہکی بہکی باتیں کرتے رہتے ہیں، انہیں غشی کے دورے پڑتے ہیں۔ علاوہ ازیں، وہ ایک نئے مذہب کا پرچار بھی بڑے زور و شور سے کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے سارے شہر میں فتنہ و فساد کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ ایسے بیماروں کے لیے تیرا دم بڑا اکسیر ہے، اگر تم انہیں دم کرو اور وہ صحت یاب ہو جائیں، تو ساری قوم تیری شکر گزار ہوگی۔"

یہ سن کر ضماد نے دل میں طے کیا کہ اگر میری اس شخص سے ملاقات ہوئی تو میں ضرور اسے دم کروں گا، شاید اللہ تعالیٰ اسے میرے ذریعے شفایاب کر دے۔ چنانچہ، ایک روز اس نے حضور ﷺ کو حرم کے صحن میں بیٹھے دیکھا۔ وہ آپ ﷺ کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا:

"میرے پاس آسیب کا بڑا مجرب دم ہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے میرے دم سے اسے صحت بخش دیتا ہے۔ کیا آپ کی مرضی ہے کہ میں آپ کو دم کروں؟"


اس کی یہ بات سن کر رسول اللہ ﷺ یوں گویا ہوئے:


"إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔"


ضماد یہ کلمات سن کر بے خود ہو گیا اور عرض کی:

"ایک بار پھر یہ ارشاد فرمائیے!"

ہادیِ برحق ﷺ نے تین بار ان کلمات کو دہرایا۔ انہیں سننے کے بعد ضماد کہنے لگا:


"لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكُهَّانِ، وَقَوْلَ السَّحَرَةِ، وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ، هَاتِ يَدَكَ، أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ۔"


"میں نے کاہنوں، جادوگروں، اور شعراء کے اقوال سنے، لیکن میں نے آپ کے ان کلمات کے مثل کوئی کلام نہیں سنا۔ ہاتھ آگے بڑھائیے تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کروں۔"


سرکارِ دو عالم ﷺ نے دستِ مبارک بڑھایا، اور اس نے بیعت کر لی۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا:


"یہ بیعت صرف تمہاری طرف سے نہیں، بلکہ تمہاری پوری قوم کی طرف سے بھی ہے۔"


ضماد نے عرض کی: "بے شک! یہ بیعت میری قوم کی طرف سے بھی قبول فرمائیں۔"


(حوالہ: دلائل النبوت)

Comments

Popular posts from this blog

What remain after death جب انسان مر جائے تو کیا باقی رہتا ہے ?*

Khulasa e Quran - para number 30 - 🕋 پارہ نمبر 30 خلاصہ قرآن

Khulasa e Quran - para number 29 - 🕋 پارہ نمبر 29 خلاصہ قرآن