Ghazwah e Ahzab : Mojza e Rasool Pak Sallallaho Alehe Wasallam

 غزوہ احزاب میں تمام مہاجرین و انصار خندق کھود رہے تھے۔ حضرت جابرؓ نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سخت بھوکے ہیں وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور پوچھا تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟

 انہوں نے ایک صاع "جو" کا نکالا اور گھر میں ایک بکری تھی، حضرت جابرؓ نے اس کو ذبح کیا اور بی بی نے آٹا گوندھا، گوشت دیگچی میں چڑھایا تو حضرت جابرؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لینے چلے گئے، بی بی نے کہا دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اصحاب کو لا کر مجھے رسوا نہ کرنا۔

حضرت جابرؓ آئے اور چپکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں کہا "ہم نے کھانے کا انتظام کیا ہے"۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند اصحاب کے ساتھ تشریف لے جاتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اہل خندق کو پکارا کہ "آئیں جابرؓ نے دعوت عام کی ہے"


 اور حضرت جابرؓ سے کہا کہ جب تک میں نہ آئوں چولہے سے دیگچی نہ اتاری جائے اور روٹی نہ پکے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام اصحاب کو لے کر روانہ ہوئے۔ حضرت جابر گھر آئے تو بی بی نے برا بھلا کہنا شروع کردیا انہوں نے کہا میں کیا کروں تم نے جو کہا میں نے اس کی تکمیل کردی۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو بی بی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آٹا پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ملا دیا اور برکت کی دعا دی، اسی طرح دیگچی میں بھی لعاب دہن ڈالا اور دعائے برکت کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روٹی پکانے اور سالن نکالنے کا حکم دیا، کم وبیش ایک ہزار آدمی تھے سب کھا کر واپس چلے گئے لیکن گوشت اور آٹے میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔

"سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اقتباس"


(حوالہ بخاری جلد نمبر2 صحفہ589 ذکر غزوہ خندق)

Comments

Popular posts from this blog

What remain after death جب انسان مر جائے تو کیا باقی رہتا ہے ?*

Khulasa e Quran - para number 30 - 🕋 پارہ نمبر 30 خلاصہ قرآن

Khulasa e Quran - para number 29 - 🕋 پارہ نمبر 29 خلاصہ قرآن