Mazarat sy faizan hasil karny ka tariqa - مزارات سے اخذ فیضان کا طریقہ

 *مزارات سے اخذ فیضان کا طریقہ* 

حضرت سیدنا شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی قدس سرہ العزیز ارشاد فرماتے ہیں:

کسی ولی خدا کی قبر سے فیض لینے کا طریقہ یہ ہے کہ اس بزرگ کے مزار پر حاضر ہو کر پہلے فاتحہ پڑھے اور اس کا ثواب صاحبِ مزار کو نذر کرے۔ پھر اس کے سینہ کے مقابل چہرہ کے سامنے کہ پشت قبلہ کو رہے گی آنکھ بند کرکے چار زانو خواہ دو زانو بیٹھے اور تصور میں اپنا دل ان کی روحِ انور کے روبرو کے مثل آفتاب روشن ہے، لائے اور یہ خیال کرے کہ میرا دل اس بزرگ کی روح کے تحت ہے اور ان کی روح کا فیضان، ان سے منتقل ہو کر نورانی فوارہ یا آفتابی شعاعوں کی شکل میں، یا بارش کے قطروں اور نسیم سحری کے جھونکوں اور ایسی ہی دوسری چیزوں کی مانند، میرے دل میں آ رہا ہے اور میرا دل، اس روح کے اوصافِ ذاتیہ سے فیض پا رہا ہے اور اسی تصور میں مستغرق خاموش بیٹھا رہے۔ اگر ریاضت کے ابتدائی دور میں بہ حالت خاموشی، لا یعنی خیالات کا دل میں ہجوم ہو، تو اس وقت انہیں دفع کرنے کی نیت سے ذکر الہی اللہ اللہ میں مصروف رہے۔ کچھ ہی دیر میں دل پر وہی کیفیت طاری ہوگی۔

اب اگر وہ روح صاحبِ نسبت بزرگ کی ہے تو اس کے فیضان سے اللہ جل مجدہ کا ذوق و شوق اور سکونِ قلبی حاصل ہوگا اور گریہ غالب آئے گا (کہ بے ساختہ دل بھر آئے گا) اور برعکس ہے تو برعکس۔

اور اگر صاحبِ مزار سے دنیا میں ملاقات کرچکا ہے تو دل کو اسی صاحبِ مزار کی روح سے مربوط کرتے وقت اسے اس کی اسی برزخِ انسانی میں جس میں اسے دیکھ چکا ہے، تصور میں لائے۔ پھر بدستور باقی ماندہ ترکیب عمل میں لائے۔ان شاءاللہ فیضیاب ہوگا۔

اولیائے الہی کے مزارات سے فیضیاب ہونے کا یہی طریقہ ہے اور اس کا بہترین وقت عصر و مغرب کا مابین یا نماز فجر سے نمازِ اشراق کے درمیان ہے۔ مگر یہ لازمی نہیں جب بھی آدمی کو وقت میسر ہو اسے عمل میں لائے۔

Comments

Popular posts from this blog

What remain after death جب انسان مر جائے تو کیا باقی رہتا ہے ?*

Khulasa e Quran Para 6 - خلاصہ قرآن پارہ 6

Khulasa e Quran - para number 30 - 🕋 پارہ نمبر 30 خلاصہ قرآن