Aitakaf ki fazeelat aur Ehmiyat aur Masail
*اعتکاف کی فضیلت و اھمیت و مسائل *۔
رمضان المبارک کے اخیر عشرہ کا اعتکاف کرنا رسول اللہ ﷺ کی مستقل سنت ہے، اور اس کی فضیلت اس سے زیادہ کیا ہو گی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے، امام زہری ؒ فرماتے ہیں : کہ لوگوں پر تعجب ہے کہ انہوں نے اعتکاف کی سنت کو چھوڑ رکھا ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺبعض امور کو انجام دیتے تھے اور ان کو ترک بھی کرتے تھے ،اور جب سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت سے لے کر وفات تک بلا ناغہ آپ اعتکاف کرتے رہے ،کبھی ترک نہیں کیا ۔
یوں تو رمضان کا پورا مہینہ دیگر مہینوں میں ممتاز اور خصوصی مقام کا حامل ہے، لیکن رمضان شریف کے آخری دس دنوں *(آخری عشرہ)* کے فضائل اور بھی زیادہ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت وطاعت ، شب بیداری اور ذکر و فکر میں اور زیادہ مصروف ھو جاتے تھے۔ احادیث مبارکہ میں اِرشاد ھے
🌹 ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اتنا مجاہدہ(یعنی عبادت میں اتنی کوشش) کیا کرتے تھے جتنا کہ دوسرے دنوں میں نہیں کیا کرتے تھے
(📚 صحیح مسلم)
دیگر احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کی تفصیلات ملتی ہیں۔ جیسا کہ دوسری حدیث میں ھے
🌹حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آخری عشرہ شروع ھو جاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر بیدار رہتے اور اپنی کمر(عبادت کیلئے) کَس لیتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔
(📚صحیح بخاری )
دوسرا خصوصی معمول جس کا ذکر حدیث میں ہے وہ ہے اپنے اہل خانہ Family کو رات میں عبادت کے لیے جگانا ھے۔ احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کو سارا سال فرائض کی پابندی کی تاکید کیا کرتے تھے،لیکن رمضان المبارک میں خصوصیت کے ساتھ جگانے کے ذکر کا صاف مطلب یہی ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گھر والوں کو باقی سارے سال کی بہ نسبت نفلی عبادات کے لئیے جگانے کا زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔*اسوجہ سے ھمیں بھی چاہیے کہ اپنی اولاد چھوٹے بہن بھائی کو عبادت کی ترغیب دیں۔* مرد حضرات کو اگر اعتکاف کا موقع نہ ملتا ھو تو فُرصت کے سارے اوقات خواہ دن ھو یا رات مسجد میں ہی زیادہ گذاریں اس سلسلے میں خواتین کو بھی چاہیے کہ اپنے گھر کے مَردوں کو ترغیب دیں کہ اخری عشرہ میں دن رات کے زیادہ تر اوقات مسجد میں گذاریں اور مرد حضرات بھی گھر کی خواتین کو ترغیب دیں کہ فارغ اوقات میں عبادت کیا کریں تلاوت قران کی کثرت کریں ورنہ اور کچھ بھی نہ ھو سکے تو تسبیح یا کاؤنٹر ہاتھ میں لے کر اُٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے لیٹ کر ہر حالت میں کثرت سے ذکرُ اللہ کیا کریں۔
*اعتکاف کی فضیلت و اھمیت*۔
1️⃣ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی۔ پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اعتکاف فرماتی رہیں۔(📚صحیح بخاری)
2️⃣ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی رضا کیلیے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہےتو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو آڑ بنا دیں گے، ایک خندق کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔
(📚معجم طبرانی)
*فائدہ:-*
سبحان اللہ! ایک دن کے اعتکاف کی یہ فضیلت ہے تو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے اعتکاف کی کیا فضیلت ہو گی؟ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو رمضان کی مبارک گھڑیوں میں اعتکاف کرتے ہیں اور مذکورہ فضیلت کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
3️⃣ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کی تمام نیکیاں اسی طرح لکھی جاتی رہتی ہیں جیسے وہ ان کو خود کرتا رہا ہو۔
(📚سُنن ابن ماجہ)
*فائدہ:-*
اس حدیث میں اعتکاف کے فوائد میں سے دو بیان کیے گئے ہیں:
معتکف جتنے دن اعتکاف کرے گا اتنے دن گناہوں سے بچا رہے گا۔
جو نیکیاں وہ باہر کرتا تھا مثلاً مریض کی عیادت، غرباء کی امداد، دینی مجالس میں حاضری
مرد حضرات کے لئیے جنازہ میں شرکت وغیرہ وغیرہ اعتکاف کی حالت میں اگرچہ ان کاموں کو نہیں کر سکتا لیکن اس قسم کے اعمال کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔
ایک حدیث میں آتا ہے:
4️⃣ جس نے اللہ کی رضا کیلیے ایمان و اخلاص کے ساتھ اعتکاف کیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
(📚کنزالعمال)
*فائدہ:-*
اس حدیث میں اعتکاف کرنے پر جن گناہوں کی معافی کا وعدہ کیا گیا ہے ان سے مراد گناہ صغیرہ ہیں، کیونکہ گناہ کبیرہ کی معافی کیلیے توبہ شرط ہے۔ اعتکاف کرنے والا جب مبارک ساعات میں اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتا ہے، آہ وبکا کرتا ہے اور اپنے سابقہ گناہوں سے سچی توبہ کرتے ہوئے آئندہ نہ کرنے کا عزم کرتا ہے تو یقینی بات ہے اس کے کبیرہ گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں، اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک میں گناہوں سے مراد کبیرہ بھی ہو سکتے ہیں جن کی معافی اعتکاف میں ہوتی ہے۔ لہٰذا معتکف کو چاہیے کہ توبہ و استغفار کا ضرور اہتمام کیا کرے۔
5️⃣ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کیا کرو۔(📚صحیح بخاری)
*فائدہ:-*
اعتکاف سے مقصود لیلۃ القدر کو پانا ہے جس کی فضیلت ہزار مہینوں سے زیادہ ہے۔ نیز اس حدیث میں لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کیلیے آخری عشرہ کا اہتمام بتایا گیا ہے جو دیگر احادیث کی رو سے اس عشرہ کی طاق راتیں ہیں۔ لہٰذا بہتر تو یہی ہے کہ اس آخری عشرہ کی ساری راتوں میں بیداری کا اہتمام کرنا چاہیے ورنہ کم از کم طاق راتوں کو تو ضرور عبادت میں گزارنا چاہیے۔
*لہذا تمام مسلمان بھائی بہنوں سے گذارش ھے کہ اگر کوئی شرعی مجبوری نہ ھو حقوق العباد پورے کرنا آپکے ذمہ نہ ھو تو آخری عشرہ میں اعتکاف پر بیٹھنے کی کوشش ضرور کرنی چاہئیے*۔
اعتکافکے ١٥ اہم مسائل
1- رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف سنت کفایہ ہے، اہل محلہ میں سے کچھ لوگ اس سنت کو ادا کر لیں تو مسجد کا حق ادا ہو جائے گا، اگر کسی نے بھی مسجد میں اعتکاف نہ کیا تو تمام اہل محلہ گناہ گار ہوں گے۔
2- آخری عشرے کے سنت اعتکاف میں بیٹھنے کیلئے ضروری ہے کہ بیسویں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں آجائے، غروب آفتاب کے بعد چند لمحے بھی بغیر اعتکاف کے گزرگئے تو یہ سنت اعتکاف نہ ہوگا نفل ہو جائے گا۔
3-اعتکاف سے بغیر کسی شرعی یا طبعی حاجت کے نکلنے سے سنت اعتکاف ختم ہو جاتا ہے اگر بھول کر بھی مسجد سے باہر نکل گئے تو بھی سنت اعتکاف ختم ہو جاتا ہے اور وہ نفلی اعتکاف بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اعتکاف کی قضا کرنا چاہیے۔اور قضا میں لَازم ھے کہ ساتھ روزہ بھی رکھے چاہے اسی رمضان میں فرض روزہ رکھنے کے ساتھ اعتکاف کی قضا کرے یہ عید کے بعد روزہ رکھنے کے ساتھ اعتکاف کی قضا کرے۔
4- مسجد کمیٹی سے مسجد کی حدود معلوم کر لینی چاہئیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسجد کے مضافات اور توابع کو مسجد سمجھ کر اس میں بھی آمدورفت رہتی ہے، حالانکہ اس سے سنت اعتکاف ختم ہوچکا ہوتا ہے، اعتکاف صرف مسجد کی اصلی حدود میں ہوتا ہے۔عموماً معکتفین جوتے اتارنے کی جگہ جا کر کچھ ضروری کام آنجام دیتے ہیں حالانکہ وہ جگہ مسجد شرعی نہیں۔
5-بالکل خاموش رہنا اعتکاف میں ضروری نہیں بلکہ مکروہ ہے البتہ اچھی یا جائز باتیں کرنی چاہئیں۔ لڑائی جھگڑوں اور فضول باتوں سے بچنا چاہیے۔
6-اعتکاف میں نماز، تلاوت، ذکرواذکار اور اسلامی لٹریچر کے مطالعہ کا معمول بنانا چاہیے ، اچھی باتیں کرنے کی اجازت ہے بری باتوں یا فضول اور لایعنی گفتگو سے احتراز کرنا چاہیے، اعتکاف میں خبریں سننا یا اخبار پڑھنا مسجد اور اعتکاف کے آداب کے خلاف ہے، اس سے احتراز ضروری ہے البتہ ہر قسم کے خالص دینی لٹریچر پر مبنی کُتب کا پڑھنا درست ہے۔
7- معتکف اذان دے سکتا ہے اگرچہ اذان کی جگہ مسجد کی حدود سے باہر ہو عبادت اور نماز جنازہ کیلئے معتکف باہر نہیں نکل سکتا البتہ اگر قضائے حاجت جیسی ضرورت کیلئے نکلنے پر دیکھا کہ نماز جنازہ شروع ہو رہی ہے تو اس میں شریک ہوسکتا ہے اسی طرح راستہ ہی میں چلتے چلتے مریض کی عیادت بھی کر سکتا ہے۔
8- معتکف کے لئیے نفلی وضو یعنی وضو کے ھوتے ھوئے تازہ وضو کرنا یا سنت غسل (جمعہ کے غسل)کے لیے نکلنا جائز نہیں۔جیسے ہی نکل کر غسل خانہ واشروم جائے گا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ہاں! اگر معتکف وضو نہیں ہے اور نفلی عبادت، جیسے: تلاوت ، نوافل وغیرہ کے لیے وضو کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے نکل سکتا ہے اور غسلِ جمعہ طبعی ضرورت میں شامل ہے اور نہ ہی شرعی ضرورت میں، لہذا مسنون اعتکاف میں جمعہ کے غسل کے لیے باہر نکلنا جائز نہیں، تاہم یہ جائز ہے کہ جب پیشاب کا تقاضا ہو تو پیشاب سے فارغ ہوکر غسل خانے میں دو چار لوٹے بدن پر ڈال لے، جتنی دیر میں وضو ہوتا ہے اس سے بھی کم وقت میں بدن پر پانی ڈال کر آ جائے، چونکہ اس میں اضافی وقت صرف کرنا اور غسل کے لیے مستقل نکلنا نہیں پایا جارہا اسوجہ سے یہ طریقہ جائز ھے۔
رسول اللہ ﷺ سے مسنون اعتکاف کے دوران جمعے کے غسل کے لیے مسجد یعنی اعتکاف کی جگہ سے باہر تشریف لے جانے کا ثبوت نہیں مل سکا۔
9- گرمی میں معتکف کے لئیے صرف ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئیے غسل کے لئیے مسجد شرعی سے نکل غسل خانہ واشروم جانا جائز نہیں۔
تاہم اس میں یہ صورت ہو سکتی ہے کہ اگر آدمی وضو کے لیے یا قضائے حاجت کے لیے واشروم جائے تو وہیں اپنے اوپر پانی بہا کر نہا لے،لیکن زیادہ وقت لگانا درست نہیں،بلکہ جتنی دیر وضو میں لگتی ہے اتنی دیر میں نہا کر فارغ ھو کر جلدی نکلنے کی کوشش کرے۰
10-وضو کے بعد وضو خانہ پر کھڑے ہو کر وضو کا پانی خشک کرنے سے کھانے کے لئیے ہاتھ دھونے کیلئے مسجد سے نکلنے سے اور وضو کے ارادے کے بغیر صابن سے ہاتھ منہ دھونے سے اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔
کیونکہ وضو خانہ مسجد شرعی نہیں لہذا بہت احتیاط کی ضرورت ھے بغیر شرعی ضرورت کے وہاں ٹہرنا درست نہیں ۔
11- جو شخص سخت بیمار ھو جائے اور اعتکاف میں ٹہرنا مشکل ہو تو اگر ڈاکٹر کا اعتکاف والی جگہ پر انا ممکن ھو تو بہت بہتر ھے ورنہ وہ شخص علاج کے لیے نکل جائے اس سے اعتکاف تو ٹوٹ جائے گا، لیکن صرف ایک روزہ اور ایک دن رات قضا اعتکاف کرنا پڑے گی مگر گناہ گار نہ ھو گا۔قضا اعتکاف اس رمضان میں بھی کر سکتا ھے کیونکہ روزے تو اب بھی جاری ہیں صرف ایک دن رات اعتکاف پر بیٹھ جائے اور رمضان کے بعد بھی روزہ رکھ کر قضا اعتکاف کر سکتا ھے۔لیکن یہ بات بھی ذھن نشین رھے کہ اعتکاف کی قضا بغیر روزہ رکھے جائز نہیں یعنی روزہ بھی ساتھ رکھنا لَازم ھے۔
12- بلا ضرورت موبائل فون کا استعمال۔
اعتکاف میں بلا ضرورت موبائل فون خصوصاً سمارٹ فون (ٹچ موبائل) کا استعمال مناسب نہیں۔لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔لیکن وقت دیکھنے کے لیے یا خاص دینی لیٹریچر و کتب موبائل میں پڑھنے کے لیے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں تاھم پھر بھی اجتناب بہتر ھے۔اگر بہت شدید ضرورت ھو تو ضرورت پوری کرنے کے فورا بعد بند کرنا مناسب اور عبادت میں یکسوئی کے لئیے بہتر ھے۔
13- اعتکاف سے نکلنے کا طریقہ۔
عید کے چاند کا جیسے ہی اعلان ھو تو سنت اعتکاف مکمل ھو کر خود بخود ختم ھو جاتا ھے اسکے ختم کرنے کے لئیے کوئی بھی مخصوص عمل نہیں۔لہذا اعتکاف سے اٹھ سکتا ھے تاھم اگر عید کی شب مسجد میں مزید عبادت کے لئیے ٹہرا رھے تو بہت بہت بڑے آجر و ثواب کی بات ھے اگر اب ٹہرنا لَازم نہیں۔
14- بعض غیر ضروری رسومات۔
بعض لوگ اعتکاف کے اختتام پر مُعتَکِف مرد یا مُعتَکِفہ خاتون کو مبارکباد دینا لازم سمجھتے ہیں اور اسی رات انکے گھر میں یا اپنے گھر بلا کر دعوت طعام وغیرہ کا پروگرام بھی لازم سمجھا جاتا ھے جسکے نہ ھونے کیوجہ سے بات ناراضگی کی طرف بڑھ جاتی ھے یہ سب محض ایک رسم ھے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
15-اعتکاف کی کوئی مخصوص دعا ھے کہ نہیں؟
اعتکاف کی کوئی مخصوص دعا نہیں البتہ نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک میں کلمہ طیبہ کہنے اور مغفرت طلب کرنے، جنت مانگنےاور دوزخ سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے، لہذا اعتکاف کے دوران بھی کثرت سے یہ دعا مانگنی جائے: ’’لَا إِلٰهَ إِلَّا الله، أَسْتَغْفِرُ الله، أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ النَّارِ‘‘.
نیز یہ دعا بھی کثرت سے مانگے: ’’اَللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعَفُ عَنِّي‘‘.
کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ مجھے بتلایئے، اگر مجھے پتہ چل جائے کہ لیلۃ القدر کون سی ہے؟ میں اس رات کیا کہوں؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ کہو: اَللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعَفُ عَنِّي۔
*اعتکاف کے مزید تفصیلی مسائل جاننے کے لئیے کتاب بھی بھیجی جا رہی ھے بوقت ضرورت آپ سب کے کام آئیگی👇*۔
🌳 جو مسلمان بھائی اعتکاف کا ارادہ رکھتے ہیں وہ مجھے بھی اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔
*نفلی اعتکاف سے غفلت نہ کیجیے*۔
🌳 حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی رضا کیلیے ایک دن کا (نفلی) اعتکاف کرتا ہےتو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو آڑ بنا دیں گے، ایک خندق کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔
(📚المعجم الاوسط للطبرانی)
اعتکاف ایک اہم عبادت ہے، اس کی بہت بڑی فضیلت ہے،*اور اس کی ایک قسم نفلی اعتکاف بھی ہے* جس سے بہت سے لوگ غفلت کا شکار ہیں اور وہ لاعملی کی وجہ سے بڑی خیر سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ذیل میں نفلی اعتکاف کے احکام ذکر کیے جاتے ہیں تاکہ اس کی اہمیت اور حقیقت معلوم ہوجائے۔
1️⃣ *نفلی اعتکاف اور اس کے احکام اور حقیقت:*۔
اللہ تعالیٰ کا قرب اور ثواب حاصل کرنے کے لیے اعتکاف کی نیت سے مرد مسجد میں اور *خواتین اپنی عبادت کے لئیے کسی مخصوص جگہ* میں ٹھہرنے کو *نفلی اعتکاف* کہتے ہیں، خواہ جتنے بھی وقت کے لئیے ھو کوئی خاص پابندی نہیں۔
2️⃣ *خواتین کبھی بھی نفلی اعتکاف سے محروم نہ رہیں:*۔
جو خواتین سنت اعتکاف کے لیے نہیں بیٹھ سکتیں تو انہیں چاہیے کہ وہ گھر کی مسجد یعنی کسی بھی مخصوص جگہ میں نفلی اعتکاف کے لیے بیٹھ جایا کریں، اس کی بھی بڑی فضیلت ہے۔
3️⃣ *عورت کے اعتکاف کے لیے گھر کی مسجد کی شرعی حقیقت:*۔
جس طرح مردوں کا اعتکاف مسجد ہی میں جائز ہے اسی طرح عورت کا اعتکاف گھر کی مسجد ہی میں درست ہے۔*گھر کی مسجد سے مراد* وہ جگہ ہے جس کو نماز کے لیے مخصوص کیا گیا ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ عورت کا اعتکاف گھر کے صرف اسی حصے میں جائز ہے جو اس کی نماز کے لیے مخصوص ہو۔*اگر عورت نے اپنی نماز کے لیے کوئی جگہ مخصوص نہیں کی ہو* کہ جہاں وہ عمومًا نماز ادا کرتی ہو بلکہ کبھی کہاں پڑھ لی تو کبھی کہاں، تو ایسی صورت میں *وہ پہلے اپنی نماز کے لیے جگہ خاص کرے* کہ نماز اسی جگہ ادا کرے گی تو پھر وہ اس جگہ اعتکاف کے لیے بیٹھ سکتی ہے۔ اہلِ علم فرماتے ہیں کہ گھر میں کوئی ایسی جگہ مقرر کر لینا بہت بہتر ہے جہاں خواتین اور گھر کے دیگر افراد نماز اور دیگر عبادات ادا کرلیا کریں۔
جو خواتین سنت یا نفلی اعتکاف میں بیٹھنے کی خواہش مند ہوں تو وہ پہلے اپنی نماز کے لیے ایسی جگہ مقرر کرلیں جہاں وہ بسہولت اعتکاف کرسکیں، پھر اس کے بعد وہ اسی جگہ اعتکاف کے لیے بیٹھ جائے۔
مثلا کوئی ایک کمرہ وغیرہ۔
4️⃣ *نفلی اعتکاف کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں:*۔
نفلی اعتکاف کے لیے کوئی وقت یا مدّت مقرر نہیں، بلکہ دن میں ہو یا رات میں ہو، جب بھی چاہے اور *جتنی دیر بھی چاہے* یہ اعتکاف کیا جا سکتا ہے۔
🔹 *مسئلہ:*
نفلی اعتکاف کی کوئی خاص نیّت نہیں بس دل میں ارادہ کریں کہ میں کچھ دیر کے لئیے نفلی اعتکاف کر رہا/رہی ھوں۔ اسی ارادے کا نام نیّت ھے۔
🔹 *مسئلہ:*
اگر کوئی شخص مثلًا ایک دن رات یا اس سے کم وقت کے لئیے نفلی اعتکاف کی نیت سے مسجد آئے
پھر کسی وجہ سے مقررہ وقت مکمل کیے بغیر ہی نفلی اعتکاف ترک کر لیا اور مسجد سے نکل گیا*تو جتنی دیر اس نے اعتکاف کیا ہے اس کا اجر وثواب اس کو مل جائے گا جبکہ باقی وقت کی قضا اس کے ذمے نہیں۔*
🔹 *مسئلہ:*
اسی طرح اگر کوئی خاتون مثلًا ایک دن رات یا اس سے بھی کم وقت کے لیے نفلی اعتکاف کی نیت سے عبادت کے لئیے اپنی مخصوص جگہ یا کسی مخصوص کمرے میں آئی پھر کسی وجہ سے مقررہ وقت مکمل کیے بغیر ہی نفلی اعتکاف ترک کر لیا *تو جتنی دیر اس نے اعتکاف کیا ہے اس کا اجر وثواب اس کو مل جائے گا جبکہ باقی وقت کی قضا اس کے ذمے نہیں۔*
🌹 سبحان الله ! نفلی اعتکاف میں یہ بھی سہولت ہے۔
5️⃣ *نفلی اعتکاف میں سنت اعتکاف کی طرح پابندیاں نہیں:*۔
نفلی اعتکاف کے لیے سنت اعتکاف کی طرح پابندیاں لاگو نہیں ہوتیں، یعنی اس میں بغیر ضرورت کے بھی مرد حضرات مسجد سے اور خواتین کے لییے عبادت والی مخصوص جگہ سے باہر جانا درست ہے، اس سے نفلی اعتکاف ٹوٹتا نہیں، بلکہ مکمل ھو جاتا ہے کہ جتنی دیر اعتکاف کیا اس کا اجر وثواب نصیب ھو جاتا ہے اور عبادت والی مخصوص جگہ سے نکلتے ہی نفلی اعتکاف ختم ھو جاتا ہے۔
6️⃣ *سنت اعتکاف سے محروم خواتین و حضرات نفلی اعتکاف کی سعادت حاصل کریں:*
جو خواتین و حضرات کسی وجہ سے ماہِ رمضان کے پورے عشرے کا سنت اعتکاف نہیں کر سکتے تو ان کو جتنے دن یا جتنے وقت کا موقع مل رہا ہو تو وہ اتنے ہی دن یا وقت نفلی اعتکاف کے لیے مرد حضرات مسجد میں اور خواتین گھر میں کسی مخصوص جگہ بیٹھ جائیں، کیونکہ اس کی بھی بڑی فضیلت ہے۔ اسی طرح وہ خواتین و حضرات جو دن کو مصروفیات اور ضروری کام کیوجہ سے اعتکاف میں نہیں بیٹھ سکتے تو وہ رات کو ہی کچھ دیر کے لئیے نفلی اعتکاف کر لیا کریں، اسی سے نفلی اعتکاف کی فضیلت حاصل کی جا سکتی ہے۔
7️⃣ *نفلی اعتکاف سے غفلت نہ کیجیے*۔
ہمارے بہت سے مسلمان بھائی بہنیں نفلی اعتکاف کی اہمیت اور فضیلت سے ناواقف ہیں، یہی وجہ ہے کہ شب وروز میں کم از کم پانچ مرتبہ نماز پڑھنے کے باوجود بھی وہ اس عبادت سے محروم رہتے ہیں، حالانکہ اس میں کسی بھی قسم کی کوئی مشقت اور تکلیف نہیں، بلکہ مرد حضرات صرف مسجد میں اعتکاف کی نیّت سے کچھ دیر کے لئیے ٹہرے رہیں اور خواتین عبادت کے لئیے کوئی مخصوص جگہ یا کمرے میں داخل ھونے کے بعد نفلی اعتکاف کی نیت کرنی پڑتی ہے بس! پھر جب تک وہاں موجود ہیں تو اس نفلی عبادت کا اضافی اجر وثواب ملتا رہتا ہے۔ نجانے اس قدر اہم عبادت سے مسلمان بھائی بہنیں کیوں غافل ہیں؟؟
(📚مستفاد از اعتکاف کے فضائل و احکام )
*آخری گذارش:-*👇
*مرد حضرات کو چاہیے* کہ خود بھی اعتکاف کے کسی نہ کسی درجہ پر خواہ وہ مکمل عشرہ سُنت اعتکاف ھو یا معمولی وقت کے لئیے نفلی اعتکاف ھو ، عمل ضرور کیا کریں بلکہ یہ عادت بنائیں کہ کم از از کم آخری عشرہ کی رات مسجد میں گذار کر پھر سحری کے لئیے گھر آیا کریں اور اپنے گھر کے خواتین کو بھی اعتکاف کی ترغیب دیں خواہ نفلی ہی کیوں نہ ھو۔
*اسی طرح خواتین کو چاہیے* کہ خود بھی اعتکاف کے کسی نہ کسی درجہ پر خواہ وہ معمولی وقت کے لئیے نفلی اعتکاف ھو ، عمل ضرور کیا کریں اور اپنے گھر کے مرد حضرات اور سمجھدار اولاد کو بھی ترغیب دیں،نرینہ اولاد کو باجماعت نماز کے لئیے مسجد بھیج کر وہاں کچھ دیر کے لییے نفلی اعتکاف کی بھی ترغیب دیا کریں۔
*نفلی اعتکاف کے لئیے آخری عشرہ شرط نہیں بلکہ ابھی سے کسی بھی وقت کر سکتے ہیں اس لئیے عزم کیجیے کہ اس اہم عبادت پر عمل کی بھرپور کوشش کرنی ہے۔*
🌻مجھے بھی اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھئیے گا۔
Comments
Post a Comment